بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

لندن، بھارتی ایجنسیوں نے پاکستانی سیاستدانوں اور سفارتکاروں کے کمپیوٹرز ہیک کروائے

کراچی (نیوز ڈیسک) برطانیہ کا دارالحکومت لندن بھارتی ہیکنگ گینگز کا گڑھ بن گیا، پاکستانی سیاستدانوں ، سفارتکاروں کے کمپیوٹرز ہیک کروائے گئے ،خفیہ آلات کے ذریعے سے ان کی گفتگو ریکارڈ کی گئی ، لندن میں موجود نجی تحقیقات کار بھارتی کمپیوٹر ہیکنگ گینگ کے ذریعے سے برطانوی کاروباری اداروں ، حکومتی عہدیدارں اور صحافیوں کو ہدف بنانے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے ۔بیورو آف انویسٹی گیٹیو جرنل ازم اور سنڈے ٹائمز کو گینگ کے ڈیٹا بیس تک رسائی دی گئی جس نے بڑے پیمانے پر غیر معمولی حملوں پر سے پردہ اٹھایا ہے ۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجرموں نے آمرانہ ریاستوں، برطانوی وکلاء اور ان کے دولت مند صارفین کے لئے کام کرنے والے تحقیقات کاروں کی بنیاد پر 100سے زائد متاثرین کےنجی ای میل اکاوئنٹس کو ہدف بنایا ۔ قطرکے ناقدین جنہوں نے رواں ماہ ہونے والے ورلڈ کپ کے موقع پر ہونے والی بے ضابطگیوں کو آشکار کرنے کی دھمکیاں دی تھیں وہ بھی ان افراد میں شامل ہیں جن کے اکائونٹس ہیک کئے گئے ہیں ۔اس گینگ نے پاکستانی سیاستدانوں ، حساس اداروں کے افسران اور سفارتکاروں کے زیر استعمال کمپیوٹرز کا کنٹرول حاصل کیا اور ان کی ذاتی گفتگو کو ہیک کیا ، بظاہر یہ سب بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کی ایما پر ہی کیا گیا ۔ دی بیوروآف انویسٹی گیٹو جرنل ازم کےمطابق یہ پہلی بار ہے کہ کرائے پر کام کرنے والے ہیکرز گینگ کا ڈیٹا میڈیا کے سامنے جاری ہوا ہے اور اس سے متعدد مجرمانہ سازشیں سامنے آئی ہیں ۔ ان میں سے کچھ ہیکرز کے صارفین نجی تحقیقات کار بھی ہیں جو لندن میں بڑے مراکز رکھنے والی بڑی فرمز کے زیر استعمال رہتے ہیں۔ دی بیوروآف انویسٹی گیٹیو جرنل ازم نے بھارت میں ہونے والے خفیہ کام سے متعلق لیک دستاویزات کی تحقیقات کی ہے جس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے پولیٹیکل ایڈیٹر کرس مائوسن کی تعیناتی کے تین ہفتوں بعد گینگ کو انہیں ہدف بنانے کے احکامات ملے ۔ سوئٹزرلینڈ کے صدر اور ان کے نائب کو بورس جانسن اور لز ٹرس سے ملاقات کے بعد نشانہ بنایا گیا جس میں انہوں نے روس پر پابندیوں سے متعلق مذاکرات کئے تھے ۔ اسی طرح سالزبری میں روسی ایجنٹ کو مبینہ طور پر زہر دیئے جانے کے واقعے کے معاملے کا جائزہ لینے کے دوران اس وقت کے چانسلر فلپ ہیمنڈ کا ڈیٹا بھی ہیک کیا گیا ۔ اسی طرح لندن کی قانونی فرم جس کی خدمات روس کیلئے حاصل کی گئی تھی کہ پرائیوٹ تحقیقات کار کو ہدایت دی گئی کہ روسی صدر ولادیمر پیوٹن کے وہ قریبی ساتھی جو انہیں چھوڑ کر جارہے ہیں کو ہدف بنایا جائے ۔ برطانیہ میں ہیکنگ ایک جرم ہے تاہم بھارتی گینگز کے خلاف اطلاعات سامنے آنے کے بعد اب تک ان کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔