کمالیہ،اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت تو معمولی چیز ہے، جان بھی چلی جائے تو ‘تین چوہوں کو نہیں چھوڑوں گا، پاکستان آکر نوا ز شریف آزاد عدلیہ کو کبھی چلنے نہیں دیں گے، الیکشن کمیشن پہلے ہی ان کے ساتھ ہے اور اب وہ سپریم کورٹ کےججز کو اپنے ساتھ ملارہے ہیں، تھری اسٹوجز کا شکر گزار ہوں کہ ان کی شکلیں دیکھ کر ناراض ارکان واپس میری طرف آگئے۔ کمالیہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سب سے پہلے آصف زرداری، پھر ڈیزل اور سب سے زیادہ شکر گزار ہوں پاکستان کے سب سے زیادہ بوٹ پالش کرنے والے شہباز شریف کا، کہ ان کی شکلیں دیکھ کر لوگ خوف زدہ ہوئے کہ یہ لوگ واپس نہ آجائیں اور لوگ میری طرف آگئے۔انہوں نے کہا کہ مولانا رومؒ نے فرمایا کہ جو قوم اچھے برے کی تمیز نہ کرے وہ قوم ختم ہوجاتی ہے، یہاں لوگ سیاست اور ڈیزل کے پرمٹ کے نام پر اپنا ضمیر بیچ دیتے ہیں، ملک کی سب سے بڑی بیماری آصف زرداری پر نیب میں اربوں روپے کے کیسز ہیں، شہباز شریف جو ’’چیری بلاسم‘‘ استعمال کرتا ہے جس سے جوتا زیادہ چمکتا ہے۔عمران خان نے کہا کہ لندن میں بیٹھے نواز شریف اور ان کی بیٹی کے لندن میں فلیٹس نکل آئے، یہ سب چور مل کر جمع ہوگئے ہیں، یہ سب سے پہلے نیب کا ادارہ ختم کرنے کی کوشش کریں گے، حکومت تو معمولی چیز ہے اگر ان کے خلاف میری جان بھی چلی جائے تو بھی ان چوروں کو نہیں چھوڑوں گا۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے لفافہ صحافت متعارف کرائی، عدلیہ پر دباؤ ڈالا کیوں کہ جو کرپٹ شخص ہے وہ عدالت کو آزاد رہنے نہیں دیتا، میں نواز شریف کو اس وقت سے جانتا ہوں جب وہ اپنے امپائر کھڑے کرکے کرکٹ کھیلنے کی کوشش کرتے تھے، نواز شریف آؤٹ ہوتے تھے تو امپائر ناٹ آؤٹ دے دیتا تھا، پھر نواز شریف چھانگا مانگا کی سیاست لے آئے، بھیڑ بکریوں کی طرح سیاست دانوں کی قیمت سب سے پہلے نواز شریف نے متعارف کرائی۔انہوں نے کہاکہ لندن میں بیٹھا شخص واپس آکر سب سے پہلے چینلز میں پیسا چلائے گا، الیکشن کمیشن پہلے ہی اس کے ساتھ ہے، اس کے بعد یہ پاکستان کی عدلیہ پر حملہ کرےگا، ابھی سے یہ عدلیہ کو تقسیم کررہا ہے،ابھی سے سپریم کورٹ کےججز کو اپنے ساتھ ملارہا ہے، یہ کبھی آزاد عدلیہ کو کبھی چلنے نہیں دےگا کیونکہ اپنے کیسز ختم کرنے ہیں ، ان کا اگلا ہدف پاکستان آرمی ہوگی کیوں کہ نواز شریف کا ہر آرمی چیف سے اختلاف ہوتا ہے۔عمران خان نے کہا کہ نواز شریف کا ہر بار آرمی چیف سے اختلاف اس لیے ہوتا ہے کہ فوج کے پاس وسائل ہیں اس لیے سب سے پہلے ان کی کرپشن کا فوج کو پتا چلتا ہے اور پھر نواز شریف کا فوج سے اختلاف ہوجاتا ہے، نواز شریف چھپ چھپ کر مودی سے ملاقات کرتے تھے اس لیے کہ نواز شریف اپنی فوج سے خوف زدہ تھے، ڈان لیکس بھی ہندوستان کو پیغام تھا کہ میں ہندوستان سے دوستی چاہتا ہوں لیکن فوج نہیں چاہتی۔ انہوں نے کہا کہ تعلقات اچھے رکھنے اور بوٹ پالش کرنے میں بہت فرق ہے، ان لوگوں کے پیسے باہر پڑھے ہیں اس لیے یہ خارجہ پالیسی بہتر ہونے نہیں دیتے۔ وزیراعظم نےکہا کہ اللہ نے انسان کو اس فیصلےکا حق نہیں دیا کہ وہ نیوٹرل ہوجائے، انسان کو اچھائی یا برائی کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، جب قوم اچھے اور برے کی تمیز نہیں کرتی وہ مرجاتی ہے، اللہ کا حکومت کے لیے حکم ہے کہ انصاف دو اور قانون کی بالادستی قائم کرو۔
دریں اثنا نجی خبررساں ادارے کے ساتھ واٹس ایپ پر کی گئی گفتگو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جس ترپ کے پتے کے بارے میں وہ ذکر کرتے رہے ہیں اس کا فوج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ ’’فوج پر تنقید کرنا اور اس کی ساکھ متاثر کرنے کا مطلب پاکستان کے مستقبل کو نقصان پہنچانا ہے۔‘‘ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی افواہ کی تردید کی کہ ان کے ترپ کے پتے کا تعلق پاک فوج کے حوالے سے ممکنہ طور پر کسی فیصلے سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا فوج سے کوئی تعلق نہیں بلکہ جس بات پر وہ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں وہ قومی سطح پر اخلاق سے جڑا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بات یہ نہیں کہ حکومت کون تشکیل دیتا ہے، کسی بھی ملک کو تباہ کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اس ملک میں اخلاقیات کو نقصان پہنچایا جائے۔ وزیراعظم ممکنہ طور پر اس طرز عمل پر تنقید کر رہے تھے جس پر عمل کرتے ہوئے ان کی پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ نے اپنی وفاداری تبدیل کی ہے، میڈیا نے انہیں سندھ ہائوس میں بیٹھے دکھایا تھا۔ اگرچہ وزیراعظم نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ ان کا سرپرائز یا ترپ کا پتہ کیا ہوگا لیکن رابطہ کرنے پر وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے دی نیوز کو بتایا کہ یہ خالصتاً سیاسی معاملہ ہے، اس کا انتظامی امور سے کوئی تعلق نہیں۔ افواہوں کے حوالے سے فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کوئی سازشی شخص نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا اور سیاسی حلقوں میں جن سوالوں پر بحث ہو رہی ہے کہ وزیراعظم اہم تقرریوں پر غور کر رہے ہیں وہ سب بیکار باتیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب افواہیں ہیں، وزیراعظم کہہ چکے ہیں کہ فوج کا ادارہ پاکستان اور اس کی سالمیت کیلئے انتہائی اہم ہے اور اسلئے ادارے کی حفاظت کرنا چاہئے نہ کہ اسے بدنام کرنا چاہئے۔ فواد چوہدری نے بتایا کہ وزیراعظم کہہ چکے ہیں کہ اگر فوج کا ادارہ کمزور ہوا تو پاکستان اپنی موجودہ حالت میں برقرار نہیں رہ پائے گا۔ دارالحکومت میں اس بات کی بھی افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ وزیراعظم چند روز قبل فوج میں تقرریاں کرنے والے تھے لیکن پھر فیصلہ تبدیل کر دیا۔ میڈیا کے کچھ مبصرین نے یہ قیاس آرائیاں بھی کی ہیں کہ عمران خان 27؍ مارچ کو عوامی اجتماع کے دوران بھی فوج میں اہم عہدوں پر تقرریوں کا اعلان کر سکتے ہیں۔ فواد چوہدری نے ان تمام اطلاعات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ سیاست اور میڈیا میں ایسے عناصر موجود ہیں جو وزیراعظم اور آرمی چیف اور ادارے کے درمیان تنازع پیدا کرنے کیلئے افواہوں کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔ فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم کیلئے فوج کا ادارہ انہیں خود سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے حلقوں کو قصور وار قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ فوج کے غیر جانبدار رہنے کے موقف کیخلاف مہم چلا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے اس حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ مہم چلانے والوں کیخلاف کارروائی کی ہدایت کی تھی۔ وزیراعظم نے دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ پی ٹی آئی کو کسی بھی طرح سے فوج کیخلاف مہم سے جوڑا نہیں جانا چاہیے۔
الیکشن کمیشن پہلے ہی نواز کے ساتھ ہے اب وہ ججز کو ساتھ ملارہے ہیں، وزیراعظم








