کوئٹہ:بلوچ طلباء کے مسائل اور جبر ی گمشدگیوں پر قائم کمیشن کے سربراہ رکن قومی اسمبلی سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں کمیشن نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو سے ملاقات کی جس میں بلوچ طلباء کے مسائل کے حل اور جبر ی گمشدگیوں سے متعلق امور پر بات چیت کی ۔ملاقات میں کمیشن کی اب تک کی پیش رفت اور اس حوالے سے صوبائی حکومت کی معاونت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔وزیراعلیٰ نے کمیشن کے قیام کا خیر مقدم کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی ،اے سی ایس داخلہ زاہد سلیم اور آئی جی پولیس عبدالخالق شیخ بھی اس موقع پر موجو دتھے ،بعدازاں وزیراعلیٰ بلوچستان نے کمیشن کے اراکین کے اعزاز میں ظہرانہ دیا،صوبائی وزراء قائد حزب اختلاف اور اراکین صوبائی اسمبلی کی بھی ظہرانہ میں شرکت کی۔دریں اثناانکوائری کمیشن نے مسائل جاننے کیلئے یونیورسٹی بلوچستان میں بلوچ طلبہ کا موقف سنا ۔ قائم مقام گورنر بلوچستان میر جان محمد جمالی نےصورتحال پر کمیشن کو بریف کیا ۔ کنوینر کمیشن سردار اختر جان مینگل کا کہنا تھاکہ لاپتہ افراد اور ہراسگی سنگین مسائل ہیں ۔ کمیشن اتنا بااختیار تو ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر حقائق پر مبنی رپورٹ عدالت عالیہ اسلام آباد کو پیش کرے ۔ گذشتہ روز کمیشن نے لاپتہ افراد کے کیمپ کے دورے میں متاثرہ خاندانوں کا موقف بھی جانا ۔ واضح رہے کہ کمیشن اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر 15 سے 17 نومبر تک کوئٹہ دورے پر ہے ۔ 18 اکتوبر سے اب تک کمیشن کے سات اجلاس ہوئے ۔ تحقیقاتی کمیشن عدالت عالیہ اسلام آباد کے 3 اکتوبر کے حکم پر بنایا گیا ۔ کمیشن قائم اسلام آباد ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن 794 / 2022 کی سماعت پر ہوا ۔ سردار اختر جان مینگل کمیشن کے کنوینر ہیں ۔ سینیٹر رضا ربانی ، سینیٹر کامران مرتضیٰ ، سینیٹر مشاہد حسین سید ، سینیٹر اسد عمر کمیشن میں شامل ہیں ۔ سینیٹر افراسیاب خٹک ، سینیٹر ناصر محمود کھوسہ بھی تحقیقات کمیشن میں شامل ہیں ۔ علی احمد کرد ، پروفیسر حفیظ الرحمان چودہری اور پروفیسر ڈاکٹر اسما فیض بھی کمیشن کا حصہ ہیں ۔ وفاقی سیکریٹری داخلہ اور وفاقی سیکریٹری ہیومن رائٹس کو بھی کمیشن میں شامل کیا گیا ہے ۔ سیکریٹری کمیشن ایوان بالا کے سیکریٹری ہیں ۔ 17 نومبر کو کمیشن کا اعلیٰ سطح جوائنٹ اجلاس بھی ہوگا ۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری ، آئی جی پولیس ، سی ٹی ڈی سربراہ اور ڈویژنل کمشنرز شریک ہوں گے۔
جبر ی گمشدگیاں،انکوائری کمیشن کی اخترمینگل کی زیرقیادت وزیراعلیٰ بلوچستان سے ملاقات،بلوچ طلبہ کا موقف بھی سنا








