عمران خان نے توشہ خانہ تحائف کی 20 فیصد ادائیگی کا قانون بدلا، 50 فیصد ادائیگی کا قانون بنایا اور قانون بدلنے کا خوب خوب کریڈٹ لیا لیکن پھر خود ہی قانون توڑ بھی دیا۔
نجی ٹی وی کے مطابق سعودی ولی عہد کے تحائف اس وقت بھی 20 فیصد ادائیگی کر کے خریدے جب 50 فیصد ادائیگی کا قانون بن چکا تھا۔
تحریک انصاف کی حکومت نے 18 دسمبر 2018 کو توشہ خانہ رولز بدلے تھے اور تحفے کی مجموعی مالیت کے 20 فیصد کے برابر رقم کی جگہ 50 فیصد ادائیگی کو لازم قرار دیا تھا۔
مگر 35 دن بعد 22 جنوری 2019 کو سعودی ولی عہد کے تحائف کُل مالیت کا 20 فیصد ادا کر کے خرید لیے، پھر رولز تبدیل کرنے کا کریڈٹ بھی لیا۔
عمران خان نے گھڑی 5 کروڑ 10 لاکھ روپے میں بیچنے کا دعویٰ کیا، 22 جنوری 2019 کو جس دن گھڑی بیچی اسی دن 2 کروڑ روپے کیش توشہ خانہ میں ادا کردیے۔
سوال پیدا ہوگیا کہ کیا پہلے گھڑی فروخت کی اور پھر ادائیگی کی یا پھر توشہ خانے میں 2 کروڑ ادائیگی دکھانے کیلئے گھڑی کی فروخت کی جعلی رسید بنوائی۔
اگر ایسا ہوا ہے تو آخر 2 کروڑ روپے کیش کس نے ادا کیا؟ سوالات اٹھ گئے ، معاملہ اور مشکوک ہوگیا۔
50 فیصد ادائیگی کا قانون توڑ کر عمران خان نے تحائف 20 فیصد ادائیگی کر کے خریدے








