اسلام آباد(ممتاز نیوز )ینگ پارلیمانی فورم (وائی پی ایف) کے صدر ممبر قومی اسمبلی سید علی موسیٰ گیلانی نے کہا کہ ملکی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور اس حوالے سے ینگ پارلیمنٹرینز فورم ملک میں جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ وائی پی ایف ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس سے نوجوان پارلیمنٹیرین نوجوانوں کے لیے قانون سازی جمہوری اداروں کی مضبوطی کیلئے موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے مکالمے کے شرکاء کو وائی پی ایف کے پلیٹ فارم کو مزید فعال بنانے خصوصاً دنیا کے پارلیمانوں کے درمیان پارلیمانی ہم آہنگی کو فروغ دینے کیلئے ٹھوس تجاویز دینے کیلئے کہا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار نوجوان پارلیمنٹرینز فورم، ہنس سیڈل فاؤنڈیشن (ایچ ایس ایف) اور نیشنل ڈائیلاگ فورم (این ایف) کے اشتراک سے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ مکالمے کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔جس کا موضوع پارلیمانی ڈپلومیسی جمہوریت کی مضبوطی کیلئے ایک موثر ہتھیار ہے۔
مسٹر سٹیفن کڈیلا صدر ہنس فاؤنڈیشن نے اس مکالمے کے کامیاب انعقاد کے لیے تعاون پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور جرمنی کی پارلیمانوں کے درمیاں رابطوں کو فروغ خصوصاً نوجوانوں کی آبادی کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قانون سازی میں ہم آہنگی کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرمن عوام اور حکومت پاکستان کے عوام کے ساتھ ہیں جو تاریخ کے تباہ کن سیلاب کا سامنا کر رہے ہیں۔ مسٹر شہریار خان ڈائریکٹر نیشنل ڈائیلاگ نے اس مکالمے کے انعقاد کے لیے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے تعاون کو سراہا۔
گول میز مکالمہ میں تباہ کن سیلابوں کی تباہ کاریوں سے انسانی زندگی پر پڑنے والے اثرات خصوصاً خواتین اور بچوں کو پہنچنے والے نقصانات پر غور کیا گیا۔ دیگر موضوعات جن پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ان میں موسمیاتی تبدیلی پر پارلیمانی تعاون کو بڑھانا اور پاکستان میں حالیہ سیلاب کی صورتحال کے تناظر میں قانون سازی کی استعداد کار میں اضافہ اور نوجوان پارلیمنٹیرینز کو درپیش مشترکہ چیلنجز تھے۔
ایڈیشنل سیکرٹری قومی اسمبلی برائے خصوصی اقدامات سید شمعون ہاشمی نے مکالمے کے شرکاء کو وائی پی ایف کے اہداف اور قانون سازی کے عمل میں اس کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے شرکاء کو وائی پی ایف کے ٹھوس اہداف کو مرتب کے حوالے سے بھی برییفنگ دی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے پارلیمانی ڈپلومیسی کے ذریعے موسمیاتی انصاف کے حصول کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے مکالمے کے شرکاء کو جعلی پروپیگنڈے سے نمٹنے کے لیے موثر قانون سازی کی ضرورت سے بھی آگاہ کیا۔
گول میز مکالمے میں سینیٹرز محترمہ ثناء جمالی اور عمر فاروق، ممبران قومی اسمبلی رومینہ خورشید عالم، سیدہ نوشین افتخار، محترمہ عالیہ کامران، نوید عامر جیوا، رانا ارادت شریف اور مختلف شعبوں کے تحقیقی ماہرین نے شرکت کی۔









