سرینگر:دنیا بھر میںجمعہ کو خواتین پرتشدد کی روک تھام کا عالمی دن منایا گیا،جموں وکشمیر ماس موومنٹ کی چیرپرسن و حریت کی سنیئر رہنماء فریدہ بہن جی نے کشمیری خوا تین کی حالت زار پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں خواتین بھارتی تسلط کی وجہ سے مسلسل ریاستی دہشت گردی ، عدم تحفظ ،ظلم و تشدد، خوف و دہشت ، ناانصافی ، سوگ اوراذیت کا شکار ہیں ۔جمعہ کوجاری بیان میں فریدہ بہن جی نے کہاکہ دنیا بھر میں آج خواتین پرتشدد کی روک تھام کا عالمی دن منایا جا رہا ہے تاہم مقبوضہ جموں و کشمیر میں خواتین پر مظالم کو مسلسل ایک جنگی ہتھیار کے طورپر استعمال کیا جارہاہے۔انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کی جدوجہد میں کشمیری خواتین کا کردار انتہائی اہمیت کاحامل ہے اوروہ بھارتی تسلط سے جموں و کشمیرکی آزادی کیلئے اپنے لخت جگر قربان کررہی ہیںجبکہ خواتین بھارتی قابض فوج کے ظلم وتشد د کا نشانہ بن رہی ہے انہوںنے آسیہ اور نیلوفرکے اغوا، عصمت دری اور بعدازاں قتل ، کنن پوشپورہ میں کشمیری خواتین کی اجتماعی عصمت دری اورآسیہ اندرابی ، فہمیدہ صوفی ، ناہیدہ نسرین اورانشاطارق سمیت کشمیری خواتین کی غیر قانونی نظربندیوںپر عالمی برادری کی خاموشی پرافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ کشمیری خواتین کے تحفظ کے لئے اقدامات اٹھائے۔ فریدہ بہن جی نے کہا کہ بھارتی فوج کشمیرمیں خواتین کی عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے ،بھارتی فوجیوں کی طرف سے کشمیری خواتین کی بے حرمتی کا واحد مقصد انہیں تحریک آزادی کشمیر سے دور رکھنا ہے ۔ تاہم باہمت کشمیری خواتین نے تمام تر مظالم کے باوجود اپنے جگر گوشے بھارتی تسلط سے آزادی کیلئے قربان کررہی اور ان کے پائیہ استقلال میں کوئی لغزش نہیں آئی ۔انہوں نے کہا کہ قابص افواج نے ہزاروں کشمیریوںکو جعلی مقابلے میں ماورائے عدالت قتل یا انہیں حراست کے دوران لاپتہ کردیا ہے جس سے ہزاروں خواتین نصف بیوائوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔بھارتی فوجیوں نے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کمزور کرنے کیلئے مقبوضہ علاقے میں نہتے کشمیری نوجوانوں کی نسل کشی اور کشمیری خواتین کی عصمت دری کو معمول بنا رکھا ہے ۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں خواتین پر جاری بھارتی مظالم ، جاری قتل عام ، بھارتی ریاستی دہشت گردی اور ناانصافی روکنے کیلئے اپنا اثر ورسوخ استعمال کرے،علاوہ ازیں جاری ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق بھارت نے کشمیری خواتین کے تقدس اورعصمت کو پامال کرنے کیلئے کالے قوانین کے تحت اپنے فوجیوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے ۔خاص طور پر 5اگست 2019کے بعدسے مودی حکومت ، بھارتی فوج، پیراملٹری اور پولیس اہلکاروں اور خفیہ ایجنسیوں کو کشمیری خواتین کو نشانہ بنانے، حراست میں لینے اور ان کے سماجی، انسانی اور دیگر حقوق کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کے بارے میں توہین آمیز کلمات اور تبصروں کے ذریعے مقبوضہ علاقے میں اپنے مذموم ایجنڈے کو آگے بڑھانے کانام نہاد قانونی تحفظ حاصل ہے۔رپورٹ کے مطابق 1989سے اب تک مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں نے2ہزار348سے زائد کشمیری خواتین کو شہید اور 11 ہزار256 سے زائد کی بے حرمتیاں کی ہیں ۔ مقبوضہ علاقے میںگزشتہ 34برس سے جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی کے دوران22ہزار952سے زائد کشمیری خواتین بیوہ ہوئی۔رپورٹ میں افسوس ظاہر کیا گیا ہے کہ بھارت خواتین کی عصمت دری کو مقبوضہ علاقے میں ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔رپورٹ میں مزید کہاگیا ہے کہ 63سالہ معمر آسیہ اندرابی ، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین سمیت دو درجن سے زیادہ خواتین گزشتہ 5 سال سے بھارت کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں غیر قانونی طورپر نظربند ہیں ۔کشمیری خواتین کو ان کے پیاروں کے قتل ، گرفتاریوں اور دوران حراست جبری گمشدگیوں کے ذریعے ذہنی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔بھارتی فوجی کشمیریوں کی تذلیل کیلئے خواتین کوروزانہ کی بنیاد پر جنسی طور پر ہراساں کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کو کشمیری خواتین کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں اور انکے خلاف گھنائونے جرائم کو روکنے کیلئے بھارت پر دبائو بڑھانا چاہیے۔









