ا سلام آباد (ممتازنیوز) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عرفان اقبال شیخ نے کہا ہے کہ تمام معاشی اشاریے منفی ہو گئے ہیں اور موجودہ ابتر معاشی صورتحال کی وجہ سے ملک کی بزنس کمیونٹی بہت پریشان ہے کیونکہ ان میں ملک کے معاشی مستقبل کے بارے میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، اپنی 45 سالہ کاروباری زندگی میں ایسی غیر یقینی صورتحال کبھی نہیں دیکھی، حکومت ملک کے بزنس لیڈرز کی مشاورت سے معیشت کو موجودہ مشکلات سے نکالنے کے لیے جامع حکمت عملی وضع کرے ،ایل سیز میں مشکلات کی وجہ سے درآمد کنندگان کا مال بندرگاہوں پر رکا ہوا ہے اور ان کو یومیہ 120 ڈالر فی کنٹینر ڈیمریج چارجز ادا کرنے پڑ رہے ہیں، سٹیٹ بینک اس مسئلے کو فوری طور پر حل کرے۔
وہ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر تاجر برادری سے خطاب کر رہے تھے ۔
عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ امریکہ اور یورپ سمیت پاکستان صرف 10 سے 12 ممالک کو برآمدات کر رہا ہے تاہم برآمدات کو بہتر کرنے کیلئے نئی مارکیٹوں کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو برآمدات کے لیے انجینئرنگ مصنوعات پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ عالمی منڈی میں ان کا حصہ 19 فیصد ہے جبکہ ٹیکسٹائل مصنوعات کا حصہ صرف 6 فیصد ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی معیشت اور برآمدات کو بہتر بنانے کی شفارشات تیار کرنے کے لیے جنوری 2023 میں چارٹر آف اکانومی کانفرنس اور ایکسپورٹ کانفرنس منعقد کرے گی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی بزنس کمیونٹی اپنی صفوں میں مضبوط اتحاد پیدا کر کے ہی حکومت کو کاروبار دوست پالیسیاں بنانے پر مجبور کر سکتی ہے۔
انہوں نے یقین دلایا کہ ایف پی سی سی آئی چیمبروں اور ایسو سی ایشنوں کو اعتماد میں لے کر پورے ملک کی تاجر برادری کے مسائل کے حل اور معیشت کی بہتری کیلئے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
اس موقع پر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احسن ظفر بختاوری نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کی ایل سیز نہیں کھولی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے پیداواری سرگرمیاں بہت متاثر ہو رہی ہیں اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو بہت سی صنعتیں بند ہو جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ سویابین کے کنٹینرز سمیت درآمد کنندگان کا دیگر مال بندرگاہوں پر رکا ہوا ہے جس وجہ سے ان کو جرمانے دینے پڑ رہے ہیں کیونکہ بینک ایل سی کو ریٹائر نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وجہ سے پولٹری انڈسٹری سمیت دیگر صنعتیں بحران کا شکار ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایف پی سی سی آئی یہ مسئلہ فوری طور پر حکومت کے ساتھ اٹھائے اور اس کو حل کرانے کی کوشش کرے تا کہ پیداواری سرگرمیوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر گر کر 7ارب ڈالر نیچے آ گئے ہیں جس سے مارکیٹ میں خدشات پھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں واضع کمی کے باوجود ملکی برآمدات میں کمی کا رجحان ہے اور تجارتی خسارہ اب بھی زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چین، افریقہ، سنٹرل ایشیاء اور آسیان کے ساتھ برآمدات کو فروغ دینے کیلئے نجی شعبے سے بھرپور تعاون کرے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پالیسی شرح سود کو کم کر کے سنگل ڈیجٹ کی سطح پر لائے تاکہ قرضے سستے ہونے سے سرمایہ کاری کو بہتر فروغ ملے اور کاروبار کی وسعت کیلئے راہ ہموار ہو۔
انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ حکومت معیشت کی بحالی کے لیے نجی شعبے اور تمام سٹیک ہولڈڑز کی مشاورت سے ایک واضع روڈ میپ کا اعلان کرے تا کہ کاروبار اور معیشت کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔فاد وحید سینئر نائب صدر، انجینئرمحمد اظہر الاسلام نائب صدر آئی سی سی آئی، خالد اقبال ملک گروپ لیڈر آئی سی سی آئی، امین اللہ بیگ، عمر مسعود الرحمان اور قاضی اکبر نائب صدور ایف پی سی سی آئی، مرزا عبدالرحمن چیئرمین کوآرڈینیشن ایف پی سی سی آئی، محمد ریاض خٹک سینئر نائب صدر پاکستان بزنس فورم، سجاد انور صدر اسلام آباد چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹریز، اسد مشہدی سابق صدر راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، ظفر بختاوری، محمد اعجاز عباسی، میاں شوکت مسعود، خالد چوہدری اور آئی سی سی آئی کے ایگزیکٹو ممبران نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ معیشت کو مزید تباہی سے بچانے کیلئے فوری طور پرنجی شعبے کے ساتھ مشاورت کا عمل شروع کیا جائے۔









