پشاور:گورنرخیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے کہاہے کہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی سمیت صوبہ کی یونیورسٹیوں کو مالی مشکلات سے نکالنے کے ساتھ ساتھ طلباء و طالبات کو جدید تعلیم سے منور کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے،ہمارے صوبہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے نہ صرف قابل اساتذہ ہیں بلکہ نوجوان ٹیلنٹ کی بھی کوئی کمی نہیں ہے، جلد بازی میں کئے گئے فیصلوں سے نہ صرف مسائل جنم لیتے ہیں بلکہ یونیورسٹیوں کا ماحول بھی خراب ہوتا ہے۔
وہ گورنرہاؤس میں منعقدہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے 15ویں سینٹ اجلاس کی صدارت کے دوران اظہار خیال کررہے تھے۔
اجلاس میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے دسویں، گیارھویں اور بارھویں سنیٹ اجلاسوں کے منٹس بھی منظوری کیلئے پیش کئے گئے جبکہ یونیورسٹی میں مختلف تعیناتیوں میں بے قاعدگیوں سے متعلق گورنرانسپکشن ٹیم کی انکوائری رپورٹ پر عملدرآمد سے متعلق تفصیلات بھی بتائی گئیںجس پر اجلاس میں متفقہ طور پر پشاور ہائیکورٹ کے فیصلہ پر من و عن عملدرآمد کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں یونیورسٹی ملازمین کی اپ گریڈیشن کا ایجنڈا بھی شامل تھا جس پر ملازمین کی اپ گریڈیشن کیلئے یونیورسٹی سٹیٹیوٹس میں ملازمین کے سکیل کی ترمیم کیلئے معاملہ کو یونیورسٹی اسٹیوٹس کیلئے پہلے سے قائم محکمہ ہائرایجوکیشن کی کمیٹی کو بھیجنے کافیصلہ کیاگیا۔ اجلاس میں مذکورہ یونیورسٹی کا نظرثانی شدہ بجٹ برائے سال 2019-20 اور 2020-21 بھی منظوری کیلئے پیش کیاگیا جس کی متفقہ طور پر منظوری دیدی گئی۔اجلاس کے دوران گورنر کا کہناتھاکہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی سمیت تمام یونیورسٹیوں کو تقرریوں سمیت مالی و انتظامی بے ضابطگیوں سے خود کو نکالناہوگاکیونکہ تعلیمی اداروں سے مستقبل کے معمار پیدا ہوتے ہیں جنہوں نے آگے ملک وقوم کی باگ دوڑسنبھالنی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی صوبہ کا قیمتی اثاثہ ہے اور اس ادارہ کی تعلیمی میدان میں طویل خدمات ہیں جس کو فراموش نہیں کر سکتے۔ اسلامیہ کالج یونیورسٹی کو نہ صرف مشکلات سے نکالنا ہے بلکہ اس تعلیمی ادارہ کی مزید بہتری کیلئے کسی بھی اقدام سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔گورنر نے کہا کہ موجودہ صدی کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے تعلیمی اداروں نےایسی نوجوان نسل تیار کرنی ہے جو تمام چیلنجز کا مقابلہ کر سکے۔
جامعات کو مالی و انتظامی بے ضابطگیوں سے خود کو نکالناہوگا،گورنرخیبرپختونخوا








