اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)قومی سلامی کمیٹی نے دھمکی آمیزمراسلے پر شدیدتشویش کا اظہارکرتے ہوئے دھمکی دینے والوں کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔جمعرات کووزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں مسلح افواج کےسربراہان، وزیر دفاع، وزیر داخلہ، وزیر اطلاعات، مشیر قومی سلامتی، انٹیلی جنس ایجنسیز کے سربراہان اور دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے بعد قومی سلامتی کمیٹی کی جانب سے اعلامیہ جاری کردیا گیا جس کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کو غیرملکی آفیشل کی پاکستانی سفیر سے ہونے والی باضابطہ بات چیت پر بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی نے غیرملکی سفارت کار کی جانب سے استعمال کی گئی زبان پر تشویش کا اظہار کیا۔اجلاس میں کہاگیا کہ مراسلہ پاکستان میں کھلی مداخلت ہے، قومی سلامتی کمیٹی نے پاکستان کے اندرونی معاملات میں کسی بھی طرح کی مداخلت کو ناقابل برداشت قرار دے دیا اور کہا کہ پاکستان کی جانب سے سفارتی سطح پر اس معاملے پر احتجاج کیا جائے گا۔دریں اثنا کمیٹی نے گزشتہ روز کابینہ اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کی۔
پارلیمانی کمیٹی قومی سلامتی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں ارکین کو قانونی دائرے میں رہتے ہوئے تفصیلات فراہم کی گئیں، قومی سلامتی کمیٹی میں رائے آئی کہ پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کےسامنے بھی حقائق رکھے جائیں۔اسد عمر نے کہا کہ جو اپوزیشن کہتی تھی ہمیں بتا دیں ہم عدم اعتماد سے پیچھے ہٹ جائیں گے، بدقسمتی ہے کہ اتنے بڑے قومی ایشوز پر بھی اپوزیشن سیاست کو ترجیح دیتی ہے، پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی میں اپوزیشن نے شرکت نہ کر کے واضح کیا کہ انہیں اس کا پہلے سے علم تھا۔
قومی سلامی کمیٹی کادھمکی آمیزمراسلے پراظہارتشویش ، بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ








