اسلام آباد(ممتازنیوز)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی وٹیلی کمیونیکیشن کا اجلاس سینیٹر کہدہ بابر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔پی ٹی اے حکام نے پاکستان میں اسپیس ایکس کے سٹار لنک پروگرام کے حوالے سے کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی۔ حکام کا کہنا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس حوالے کچھ سکیورٹی خدشات کے باعث مزید پیشرفت ممکن نہیں ہو سکی۔
سینیٹر افنان اللہ خان کا کہنا تھا کہ دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کےلیے یہ ایک بہترین ٹیکنالوجی ہے اور محض سیکیورٹی خدشات کی بنا پر اسکو روکنا مناسب نہیں۔
چیئرمین کمیٹی سینیٹر کہدہ بابر نے اس معاملے کو یکسو کرتے ہوئے منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے ایک ذیلی کمیٹی قائم کر دی جو تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بیٹھ کر معاملات طے کرے گی۔
یونیورسل سروسز فنڈ کی جانب سے کم ترقی یافتہ علاقہ جات میں وائس اور ڈیٹا سروس کی بہتری کے حوالے سے منصوبہ جات پر کمیٹی کو بریفنگ دی گئی۔
حکام نے بتایا کہ بلوچستان میں صارفین کو بہترین سروس کی فراہمی کےلیے کئی منصوبہ جات پر کام جاری ہے۔ ضلع گوادر میں بہتر سروس کی فراہمی کےلیے ایک نجی ٹیلی کام کمپنی نے 95 فیصد ٹاورز پر فور جی انٹرنیٹ سروس متعارف کروا دی ہے۔
چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ سروس میسر نہیں ہے، جسکی وجہ سے بلوچستان کے طالب علموں کو مشکلات پیش آرہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے علاقوں میں سروس ہونے کے باوجود سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے سروس معطل ہے۔
حکام کا کہنا تھا کہ سروس کو مزید بہتر بنانے کیلئے مخصوص علاقوں میں نیشنل رومنگ شروع کی جا رہی ہے، جو اگلے سال جون تک صارفین کو فراہم کر دی جائیگی۔
سینیٹر افنان اللہ خان کا کہنا تھا کہ ضلع گوادر پر خاص توجہ دی جانی چاہیے کیونکہ وہاں بھاری بیرونی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔
چیئرمین کمیٹی سینیٹر کہدہ بابر نے ہدایت دی کہ سیاحتی مقامات پر انٹرنیٹ سروس کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے۔
ورچوئل یونیورسٹی میں ڈائریکٹر ایسٹبلشمنٹ کی آسامی سے غیر قانونی طور پر ہٹائے گئے افسران کے حوالے سے دائر کی گئی عوامی عرضداشت پر بھی غور کیا گیا۔
سیکریٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کا کہنا تھا کہ افسران کو کنٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا تھا اور اُنکے کنٹریکٹ کی مدت ختم ہو چکی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یونیورسٹی ممکمل انکوائری کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ نکالے گئے افسران کی تعلیمی قابلیت متعلقہ آسامی کے مطابق نہ ہے۔
سینیٹر محمد عبدالقادر کا کہنا تھا کہ سات سال سروس کے بعد کسی کو اس طرح ملازمت سے فارغ کر دینا زیادتی ہے۔ اگر افسران کی تعلیمی قابلیت آسامی کے مطابق نہیں تھی تو اُنھیں ابتدائی طور پر بھرتی ہی کیوں کیا گیا؟. چیئرمین کمیٹی نے ہدایت دی کہ افسران کے معاملے کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر یونیورسٹی کے بورڈ میں پیش کیا جائے اور اگر افسران کی تعلیمی قابلیت موضوع نہیں ہے تو جس اتھارٹی نے انہیں ابتدائی طور پر غلط بھرتی کیا تھا اُنکے خلاف نیب اور ایف آئی اے کاروائی کریں۔
سکیورٹی خدشات ، اسپیس ایکس کے سٹار لنک پروگرام پر پیشرفت نہ ہوسکی








