بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

وفاقی حکومت کی پہلی ترجیح کسی بھی طریقے سے پنجاب حکومت گرانا ہے ،شاہ محمود قریشی

ملتان(مقبول حسین) پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی ترجیحات درست نہیں،ان کی ترجیح کسی بھی طریقے سے پنجاب حکومت گرانا ہے اور اپنے خلاف درج کرپشن کے مقدمات ختم کروانا ہے، حکمران عمران اور تحریک انصاف کی مقبولیت سے خائف ہو کر الیکشن نہیں کروانا چاہتے، یہ لوگ اقتدار کو طول دینے کے چکروں میں ہیں،تاہم وفاقی حکومت آخری اننگز کھیل رہی ہے ان کا اقتدار ڈگمگا رہا ہے۔
وہ عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں مختلف یونین کونسلوں میں وفود سے ملاقات اور استقبالیہ تقاریب سے خطاب کررہے تھے۔
شاہ محمود قریشی نے کہاکہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات تشویش ناک ہیں اور وفاقی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں کیونکہ بارڈرز کا دفاع وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے، مختلف وفاقی وزراء کے بیانات سامنے آئے جن میں کہا جا رہاہے کہہ کے پی کے کی حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہاہے۔ میں سوال کرتاہوں وفاقی دارالحکومت میں دہشت گردی کا واقعہ ہوتاہے یا بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات ہوتے ہیں۔ کیا ان کی ذمہ داری بھی کے پی کے کی حکومت پر عائد ہوتی ہے؟ دہشت گردی کے واقعات دیکھ کر ایسا گمان ہوتا ہے کہ حکومت نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں اور اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کررہی ہے ،دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات لمحہ فکریہ ہیں۔ بہت بڑی جانی اور مالی قربانیوں کے بعد ملکی حالات کنٹرول میں ہوئے تھے، اب دوبارہ ان واقعات کا وقع پذیر ہونے سے لگتا ہے کہ ہماری قربانیاں راہ گاہ ہوتے دیکھائی دے رہی ہیں،عالمی برادری نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو سراہا۔ حکومت دہشت گردی کنٹرول کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ امپورٹڈ حکمرانوں کی 7ماہ کی کارکردگی عوام کے سامنے ہے، حکومت عملاً ناکام ہو چکی ہے، ان کے پاس حکومت چلانے کی نہ تو اہلیت ہے اور نہ ہی کوئی ایجنڈا ہے، ملکی معیشت کا برا حال ہے، تحریک انصاف کے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں ملک میں صنعتی ترقی ہوئی، امپورٹڈ حکمرانوں کے 7مہینوں میں ملک میں 25سو ٹیکسٹائل ملیں بند ہو چکی ہیں جبکہ 15لاکھ مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں۔ ایک وقت تھا فیصل آباد میں انڈسٹری کیلئے مزدور نہیں ملتا تھا اور اب لاکھوں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں، ملک میں صنعتیں روزبروز بند ہو رہی ہیں۔ ایک بڑی کاروں کی پیداوری یونٹ نے اپنی فیکٹری بند کرنے کا اعلان کیا ہے، ملک میں آٹے کا بحران ہے، لوگوں کو لائنوں میں لگ کر آٹا لیناپڑتا ہے، سندھ حکومت نے گندم کی قیمت چار ہزار روپے من مقرر کی ہے۔ پنجاب 3200روپے مقرر کی ہے۔ آگے دیکھیں گندم کا بحران کیا صورتحال اختیار کرتا ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ملک میں مہنگائی تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے،بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے،عوام کا دو وقت کا چولہا جلانا مشکل ہو چکا ہے، حکمرانوں کی عیاشیاں ختم نہیں ہو رہیں، ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی، ملک ڈیفالٹ کی طرف گامزن ہے، ملک کو ترقی کے سفر سے ہٹا دیا گیا ہے، روشنی سے اندھیروں کی طرف دھکیل دیا گیا ہے، ملک شدید ترین معاشی و سیاسی بحران کی زد میں ہے، تمام بحرانوں کا واحد حل فوری اورشفاف انتخابات ہیں۔ وقت آگیا ہے قوم کو فیصلہ کن کردار ادا کرنا ہوگا۔ ملک بچانے کیلئے فوری الیکشن نا گزیر ہیں۔ عوام کو عمران خان کا ساتھ دینا ہوگا۔ عمران خان ہی ہیں جو ملک کو بحرانوں سے نکال سکتے ہیں۔ قبل ازیں مخدوم شاہ محمود قریشی نے مختلف یونین کونسلوں کا دورہ کیا۔ وفات پا جانے والی شخصیات کی رہائش گاہوں پر گئے۔ مرحومین کے درجات کی بلندی کے لئے فاتحہ خوانی کی۔ انہوں نے وفود سے ملاقاتیں کیں۔ عوام کے مسائل سنے اور ان کے حل کیلئے فوری احکامات جاری کئے۔