لاڑکانہ: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ فوج اور عدلیہ نے نہیں بلکہ پارلیمان نے سلیکٹڈ وزیراعظم کو گھر بھیجا،مشرف سے عمران خان تک غیرجمہوری لوگوں کو جمہوری طریقے سے نکالا، کٹھ پتلیوں کی جھوٹ کی سیاست کو رد کریں گے، 15 سال گزر چکے ہیں، جب سے آپ کی بی بی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو آپ سے چھینا گیا، میں آپ سب کو پاکستان پیپلز پارٹی کے تمام جیالوں اور پاکستان کے سیاسی کارکنوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔
گڑھی خدا بخش میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو اور اس سوچ کا بتانا چاہ رہا ہوں، جو سمجھ رہے تھے کہ بی بی کو شہید کرکے ان کی جماعت کے سفر کو روک سکتے تھے، بتانا چاہتا ہوں کہ گڑھی خدا بخش میں ایک نظر دوڑائیں یہاں پندرہ سال بعد بھی انسانوں کا سمندر ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر کے جیالے آج بھی یہاں موجود ہیں، شہید محترمہ بے نظیر کے بہن بھائی اور سیاسی کارکن آج بھی یہاں موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 15 سال کے بعد بھی اس ملک، اس جماعت کے سیاسی کارکن اور ہمارے عوام نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو نہیں بھولے ہیں، آج بھی ہم ان کے سیاسی فلسفے پر چلتے ہیں، سیاسی نظریے کے مطابق چلتے ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم پوچھتے ہیں کہ وہ گناہ کیا تھا جس کی وجہ سے محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کیا گیا، کیا یہ گناہ تھا کہ وہ ایک محب وطن پاکستانی تھیں، کیا ان کا گناہ یہ تھا کہ وہ نہ صرف پاکستان کی لیڈر تھیں بلکہ وہ تو عالمی دنیا کی لیڈر تھیں، وہ مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بن کر پوری مسلم امہ کا فخر تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو جمہوریت کی علمبدار تھیں، وہ آمروں کے لیے خوف کی بنیاد تھیں، انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کا منہ توڑ جواب تھیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ دلیر قائد تھیں، وہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر 30 سال جدوجہد کرتی رہیں مگر اپنے عوام، کارکن اور اپنے ساتھیوں کو ایک دن کے لیے بھی لاورث نہیں چھوڑا، وہ معاشی انصاف چاہتی تھیں تاکہ عام آدمی عزت کے ساتھ اپنی زندگی جی سکے، وہ سب کے لیے ایک ہی پاکستان چاہتی تھیں، وہ برابری پر یقین رکھتی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کچھ سیاستدان ملک توڑنے کی سیاست کرتے ہیں، تقسیم کی بنیاد پر سیاست کرتے ہیں، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو یکجہتی پر یقین رکھتی تھیں، ملک جوڑ کر سیاست کرتی تھیں، اسی لیے ہم کہتے تھے اور کہتے ہیں کہ چاروں صوبوں کی زنجیر بے نظیر، بے نظیر۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ پاکستان کو دنیا میں اکیلا نہیں دیکھنا چاہتی تھیں، پاکستان کو پوری دنیا کے ساتھ ملا کر اس ملک کی ترقی دیکھنا چاہتی تھیں، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اگر امریکا جاتی تھیں تو وہاں کی پارلیمنٹ ہے، ان کے سارے سینیٹرز اور سارے اراکین پارلیمان میں جمع ہو کر جلسہ بنا کر ان کی تقریر سنتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو تو ایسی لیڈر تھیں کہ امریکا کی مستقبل کی وزیر خارجہ کہتی تھی کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو ایک جھلک دیکھنے کے لیے ، ان سے ہاتھ ملانے کے لیے ہیلری کلنٹن قطار میں کھڑے ہو کر انتظار کرتی تھی، یہ وہ لیڈر تھیں جس کو آپ نے شہید کیا، جب وہ چین جاتی تھیں تو پورا چین جانتا تھا کہ یہ بھٹو کی بیٹی ہیں، اور اسی طریقے سے ان کو عزت دی جاتی تھی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ شہید بینظیر بھٹو جھوٹ کی نہیں سچ کی سیاست میں یقین رکھتی تھیں، ہم فساد کی سیاست کو دفن کریں گے، ہم کٹھ پتلیوں کی جھوٹ کی سیاست کو رد کریں گے، اس ملک کو جوڑیں گے، یکجہتی کے ساتھ سیاست کریں گے، لوگوں کو لڑوائیں گے نہیں۔
مشرف سے عمران خان تک غیرجمہوری لوگوں کو جمہوری طریقے سے نکالا، بلاول بھٹو زرداری








