بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

  پرویزالٰہی اعتماد کا ووٹ لیکراسمبلی توڑ دیں، کوشش ہوگی حالات گورنرراج کی نہج پر نہ پہنچیں، بلیغ الرحمان

 لاہور(ممتازنیوز) گورنرپنجاب بلیغ الرحمان نے کہاہے کہ وزیراعلیٰ پرویزالٰہی اعتماد کا ووٹ لیکراسمبلی توڑ دیں،یہ ان کاآئینی حق ہے،آئین میں گورنرراج کی گنجائش موجود ہے تاہم ہرممکن کوشش ہوگی کہ حالات اس نہج پر نہ پہنچیں،بطورگورنرسب پارٹیوں کا خیال رکھتاہوں،پنجاب حکومت کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ قائم کی،مجھے صدرنہیں،وزیراعظم ہٹاسکتے ہیں ۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بلیغ الرحمان نے کہاکہ وزیراعلیٰ کو ثابت کرناہوتا ہے کہ اس کے اعتماد ہے، پرویزالٰہی اعتماد کا ووٹ لے لیتے تو کوئی مضحکہ نہیں تھا آئین میں وزیراعلیٰ کے اسمبلی توڑنے کی گنجائش موجود ہے ،ان کے پاس حق ہے اور میں اس کے خلاف نہیں تاہم جمہوریت پسند ہونے کے ناطے اس اقدام کو پسند نہیں کیا، جس ہاوس نے یہ اختیاردیااگر وہ آپ کو وزیراعلیٰ نہ رکھے تو پھر اسمبلی کیوں توڑی جائے،اس لئے پرویزالٰہی پہلے اعتماد کا ووٹ لے لیں اور پھر اسمبلی توڑ دیں۔ گورنرراج سے متعلق سوال پر بلیغ الرحمان نے کہاکہ گورنرراج فائدہ مندچیزنہیں،ہماری ہر ممکن کوشش ہوگی کہ حالات اس نہج پر نہ پہنچیں تاہم آئین میں اس کی گنجائش موجود ہے ،اگرصوبے میں آئینی و سیاسی بحران پیداہوجاتا ہے توآئین گورنرراج کی اجازت دیتاہے لیکن یہ انتہائی اقدام ہے ۔انہوں نے کہاکہ اعتماد کا ووٹ لینے کے بارے میں ،میں نے جواز بھی لکھ کربھیجے ،ان کے اپنے لوگ بھی اسمبلی توڑنے کے فیصلے سے خوش نہیں ہیں،پرویزالٰہی ووٹ کا اعتما د لے لیں تو اچھی بات ہے نہیں لئے تو صوبائی حکومت سازی کاعمل دوبارہ شروع ہوگا۔ گورنرنے کہاکہ میرا مسلم لیگ (ن) سے تعلق ہے اور شروع سے ہی اسی جماعت سے تعلق رہاہے،تاہم بحیثیت گورنرسب پارٹیوں کا خیال رکھتا ہوں ،پنجاب حکومت کے ساتھ ورکنک ریلیشن رکھی ہے، سوائے چند چیزوں کے جن پر اعتراض ہیں باقی سب بلوں کی منظوری دی۔انہوں نے کہاکہ فوری الیکشن نہ کرنے کے حوالے سے اتحادی حکومت کا فیصلہ ہے اوراس کا جواز بھی ہے،ابھی تک سیلاب زدہ علاقوں میں پانی نہیں اترا،جہاں سارے تین کروڑ لوگ بے گھر ہیں اور لوگوں کو زندگی کی طرف دوبارہ لوٹنے کے لئے مدد چاہئے تو کیاسیاسی لوگ وہاں ووٹ مانگنے جائیں گے،پھر معاشی چیلنجز بھی ہیں چنا نچہ الیکشن کے حوالے سے وفاقی حکومت جو رائے ہے تو وہ مناسب ہے،اگریہ پنجاب اسمبلی تحلیل کرتے ہیں تو ظاہر ہے کہ پھر الیکشن کی طرف جاناپڑے گایہ کہناکہ اگر ان دوصوبوں میں الیکشن ہوں گے تو پورے ملک میں لازمی ہوجائیں گے یہ عمران خان کا اپنا خیال ہے، باقیوں کا خیال اور ہے، میراخیال ہے کہ سیاست اپنا راستہ خو د بنائے گی۔نگران حکومت سے متعلق سوال پر بلیغ الرحمان نے کہاکہ دنیاکے بیشتر ممالک میں نگران حکومتیں نہیں بنتیں، یہاں تو کبھی نگران حکومت ہوتے ہوئے بھی ہاتھ ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ق لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت ہیں ان کا فیصلہ اور ہے اور پارلیمانی پارٹی کا فیصلہ اور ہے ،تاہم یہ معاملہ عدالت میں ہے وہ جو فیصلہ کرے گی سر آنکھوں پر ۔وزیراعلیٰ پرویزالٰہی کی کارکردگی کے حوالے سے بلیغ الرحمان نے کہاکہ ان کے اچھے کام بھی ہیں ان میں کچھ دینی کام بھی ہیں تاہم بہت سی کمیاں بھی ہیں ،صوبے میں امن وامان کی صورت حال خراب ہے،جرائم کی شرح زیادہ ہے،یہ حالات تو گزشتہ چار سال میں پیداہوئے ہیں، بزدارکے حوالے سے پرویزالٰہی نے جو کچھ کہامیں اس سے اتفاق کرتاہوں۔انہوںنے کہاکہ پی ٹی آئی کےحالیہ احتجاج کے دوران مختلف چوکوں چوراہوں پر چند لوگ جمع ہوئے اور باقی لوگوں کی زندگی اجیرن کردی تھی،پلوں، موٹروے پر دو دو،چارچار لوگ کھڑے تھے اور پولیس انہیں تحفظ فراہم کررہی تھی،پھر چند لوگوں کے جتھے نے گورنرہاوس پر حملہ کیا،گیٹ توڑنے اور آگ لگانے کی کوشش کی ،ایسالگتاتھا کہ حکومت لوگوں کے جان مال کے تحفظ کرنے میں ناکام تھی۔گورنرہاوس پر حملے کے بعدصوبائی حکومت کی طرف سے کسی نے معذرت نہیں کی،میرے علاوہ وہاں بہت سے سٹاف کی رہائش ہے ،سکول ہیں، سب نے عدم تحفظ محسوس کیا۔انہوں نے کہاکہ ہم نے کبھی تصادم والی صورتحال پیدا نہیں ہونے دی،سابق گورنرکے بالکل برعکس طرز عمل اپنایا، 95 فیصد سے زیادہ وزیراعلیٰ کی طرف سے جو امور آتے ہیں ان کی بروقت منظوری دیتے ہیں، مثبت بلوں کی فوری منطوری دی۔وزیراعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کرنے والے بیوروکریٹس کے خلاف کارروائی سے متعلق گورنرنے کہاکہ یہ بات میرے علم نہیں آئی ،اگرایسی کوئی کارروائی ہوئی ہے تو میں اس کی مذمت کرتا ہوں،چیف سیکرٹری کو جب گورنرکا آرڈر مل جائے تو وہ اس کے خلاف نہیں جاسکتے،پھرآرڈر چیف سیکرٹری نے کیاتھا تو ڈپٹی سیکرٹری کو کیوں معطل کیاگیا ؟ بہرحال جب معاملہ جب سامنے آئے گا تو جائزہ لیں گے۔انہوں نے کہاکہ آئین میں شوقیہ گورنر کااختیارنہیں ہوتا کہ کسی کو ہٹادے،یہی وجہ ہے کہ گورنرنے کہاہےکہ اعتماد کاووٹ لیں،اسی طرح کوئی ایساقانون نہیں ہے کہ صدر اپنی مرضی سے گورنرکو ہٹادیں،صدرنہیں ،وزیراعظم چاہیں تو مجھے ہٹاسکتےہیں۔