اسلام آباد(ممتاز نیوز)وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے اقلیتوں کے تحفظ کے نام پر جبری مذہب تبدیلی کے حوالہ سے قانون سازی کا بیان انتہائی تشویش ناک ہے۔ اس قانون سازی کا مقصددر حقیقت اسلام قبول کرنے پر پا بندی لگانے کی راہ کو ہموار کرنا ہے جو ہم مسترد کرتے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار کونسل کے صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابو الخیر محمد زبیر نے کونسل کی مجلس عاملہ کے اجلاس منعقدہ الفلاح ہال اسلام آباد سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انھوں نے کہا کہ مجلس عاملہ کا یہ اجلاس اعادہ کرتا ہے کہ کسی شہری کو کسی عمر میں مذہب اسلام قبول کرنے کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف تحریک چلائیں گے۔ یہ اجلاس وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو متبنہ کرتا ہے کہ اس سے قبل پارلیمانی کمیٹی ، وزارت مذہبی امور قائم کمیٹی برائے مذہبی امور مجوزہ قانون سازی کو مسترد کر چکے ہیں لہذا وفاقی حکومت اس معاملہ کو دوبارہ نہ اٹھائے اور غیر اسلامی قانون سازی کو فور ی طور پر روکا جائے۔کونسل کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے عاملہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں دہشتگردی کے واقعات بالخصوص بلوچستان میں دھماکے، اسلام آباد میں خود کش دھماکہ ، سی ٹی ڈی سینٹر بنوں پر حملہ انتہائی تشویشناک ہیں ۔ سیکورٹی ادارے قومی ایکشن پلان پر غیر جانبداری سے عمل درآمد کریں اور گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کا تاثر ختم ہونا چاہیے ۔ ملی یکجہتی کونسل پاکستان کایہ اجلاس حکومت افغانستان سے بھی اپیل کرتا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف کراس باڈر مداخلت کا نوٹس لیں ، ہم طالبان حکومت سے یہ بھی اپیل کرتے ہیں کہ اسلام نے خواتین کو تعلیم کا حق دیا ہے ۔ خاندان اور اولاد کی تربیت میں خاتون کا اہم کردار ہے لہذا اپنے ملکی حالات کے مطابق ایسی پالیسیاں وضع کریں کہ خواتین کو تعلیم کا حق حاصل ہو۔حکومت سودکے خاتمے ، ٹرانسجینڈر ایکٹ میں ترامیم کے حوالے سے بھی اقدامات کرے۔ انھوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے حکومتی اداروں نے مسئلہ کشمیر کو فراموش کر دیا ہے اس سلسلے میں ملی یکجہتی کونسل جلد ایک حکمت عملی وضع کرے گی اور مسئلہ کشمیر و فلسطین کو ہر فورم پر اٹھائے گی ۔ کونسل کے وفد کی ہمسایہ اور مسلم ممالک کے سفارتکاروں سے ملاقاتیں اسی ضمن میں کی جارہی ہیں ان ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔اسلامی تحریک کے نائب صدر علامہ عارف واحدی نے کہا کہ ملک کے معاشی ، اقتصادی حالات بہت خراب ہیں ، دہشتگردی کے واقعات بھی ہو رہے ہیں اب تو سیاسی راہنمابھی ایٹمی اثاثوں کو بیچنے کی بات کر رہے ہیں، ایسے میں مذہبی قیادت کو سامنے آنے کی ضرورت ہے ۔ مجلس وحدت مسلمین کے سیکریٹری جنرل سید ناصر شیرازی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی نظریاتی سرحدیں زیر سوال ہیں،ہمیں کشمیر کے مسئلے کو اپنی ترجیح قرار دینا چاہیے ، فلسطین کی مانند اس مسئلے کو زندہ رکھنا وقت کی ضرورت ہے۔ مفتی گلزار احمد نعیمی نے وزارت مذہبی امور کے مسائل پر روشنی ڈالی ، عبد اللہ گل نے طالبان کے مسئلے پر روشنی ڈالی ۔ مجلس عاملہ کے اجلاس سے دیگر قائدین نے بھی خطاب کیا ۔ عاملہ کے اجلاس میں متعدد تنظیمی فیصلہ جات کیے گئے ۔ طے پایا کہ ملی یکجہتی کونسل یوم کشمیر ، یوم یکجہتی کشمیر، یوم القدس کے حوالے سے سیمینار ز کا انعقاد کرے گی ۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ کونسل کے زیر اہتمام ایک عالمی اتحاد امت کانفرنس مارچ کے مہینہ میں منعقد کی جائے گی ۔ درج بالا قائدین کے علاوہ ثاقب اکبر ڈپٹی سیکرٹری جنرل ، سید محمد صفدر شاہ گیلانی مرکزی نائب صدر، سید معرفت شاہ صدر ہدیہ الھادی پاکستان،سید عبدالوحید ڈپٹی سیکرٹری تحریک حرمت رسول پاکستان، راجہ محمد اصغر نائب ناظم اعلیٰ تنظیم اسلامی پاکستان،علامہ سید جعفر نقوی سیکریٹری جنرل شمالی پنجاب، شیر محمد مغل نائب صدر جمعیت علمائے اسلام سینیئر ،سردار اعجاز افضل خان، صدر آزاد کشمیر،سید عقیل انجم قادری جوائنٹ سیکرٹری جمعیت علماء پاکستان نے بھی خطاب کیا دیگر شرکاء میں زاہد علی اخوانزادہ مرکزی راہنما اسلامی تحریک، سید ظہیر الحسن نقوی مرکزی راہنما مجلس وحدت مسلمین، خان عبدالقیوم خان طاہر رشید تنولی مرکزی سیکرٹری فنانس، شاہد شمسی میڈیا سیکرٹری، سید لطیف الرحمان شاہ ، رابطہ سیکرٹری ، سید اسد عباس نقوی رابطہ سیکرٹری، اسرار احمد آفس سیکرٹری، ڈاکٹر محمد شیر سیالوی ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اہل حرم پاکستان، مفتی عبدالباسط ، ڈاکٹر قلب نواز میڈیا سیکریٹری اسلامی تحریک اور دیگربھی موجود تھے۔
ملی یکجہتی کونسل عالمی اتحاد امت کانفرنس منعقد کرے گی : ڈاکٹر صاحبزادہ ابو الخیر محمد زبیر








