قومی اسمبلی کی سال 2022 کی کارکردگی رپورٹ جاری کردی گئی ۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق 2022 میں عوام کی فلاح و بہبود کے لیے قومی اسمبلی میں ریکارڈ قانون سازی کی گئی،
سال 2022 میں قومی اسمبلی نے قانون سازی کے علاؤہ پارلیمانی سفارتکاری کے محاذ پر اہم سنگ میل عبور کیے،
قومی اسمبلی کے ایوان نے سال 2022 میں قانون سازی کے شعبے میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے،
جنوری 2022 سے دسمبر 2022 تک قومی اسمبلی میں 47 سرکاری بلز اور 15 پرائیویٹ ممبر بلز منظور کیے گئے،
منظور کردہ بلوں میں سے 38 بلز ایکٹ آف پارلیمنٹ بن چکے ہیں،
قومی اسمبلی کی جانب سے جو نمایاں قانون سازی الیکشن بل، رحمت العالمین اتھارٹی بل شامل ہیں،
نیشنل ہائی وے سیفٹی بل، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل بل، کرمنل لاء (ترمیمی) بل بھی اہم قانون سازی کا حصہ ہیں،
پاکستان ایکسپورٹ اینڈ امپورٹ بل، قومی احتساب (دوسرا ترمیمی) بل، پاکستان ٹوبیکو بل قابل ذکر قانون سازی میں شامل ہے۔
اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز بل، کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل، پٹرولیم بل بھی قانون سازی میں شامل ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری اور اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات بل شامل قانون سازی کا حصہ ہیں۔
۔سال 2022 میں مختلف امور پر ایوان میں 25 قراردادیں منظور کی گئیں،
اس کے علاوہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو اراکین کی جانب سے 3751 سوالات موصول ہوئے۔
موصول ہونے والے سوالوں میں سے 1004 سوالات کے جوابات دیے گئے۔
سال 2022 میں کل 183 توجہ دلاؤ نوٹس موصول ہوئے، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ
موصول ہونے والے توجہ دلاؤ م نوٹس میں سے 71 ایوان میں پیش کیے گئے اور 43 پر بحث ہوئی۔
سال 2022 میں مجموعی طور پر 82 استحقاق کی تحریکیں موصول ہوئیں، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ
موصول ہونے والی استحقاق کی تحریکوں میں سے 45 متعلقہ کمیٹی کو بھیج دی گئیں، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ۔
قومی اسمبلی قواعد و ضوابط کے طریق کار 2007 کے قاعدہ 259 کے تحت 124 تحاریک موصول ہوئیں، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ
جن میں سے 32 ایوان میں پیش کی گئیں۔پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی، قائمہ کمیٹیاں اور پارلیمانی کمیٹیوں نے عوامی فلاح و بہبود کے لیے ہونے والی قانون سازی میں ایوان کی معاونت کی اورحکومتی احتساب اور پارلیمانی نگرانی میں فعال کردار ادا کیا۔ پارلیمنٹ کی تاریخ میں پہلی بار معاشرے کے پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے کو ایوان میں بلایا گیا۔
خواتین بچوں، اقلیتی برادری اور خواجہ سراؤں کے لیے قومی اسمبلی کے دروازے تین دن کے لیے کھولے گئے، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ
سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی ہدایت پر ایوان کی ڈائمنڈ جوبلی منائی گی، ڈائمنڈ جوبلی کی مناسبت سے خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا، جس میں معاشرے کی تمام طبقات نے شرکت کی، اسپیکر قومی اسمبلی کی خصوصی توجہ کے باعث بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پہلا پارلیمانی کاکس تشکیل دیا گیا، سال 2022 میں موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز کو اجاگر کرنے میں پارلیمانی سفارتکاری نے اہم کردار ادا کیا، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق قومی اسمبلی نے موسمیاتی انصاف کا مقدمے کو اجاگر کرنے کے لیے ایشیاء پیسیفک ریجن کے ممبر ممالک پر مشتمل آئی پی یو سیمینار منعقد کرایا گیا،
آئی پی یو کی جنرل اسمبلی میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ متاثر ہونے والے ترقی پزیر ممالک کے لیے ہنگامی فنڈ کے قیام کے لیے قرارداد پیش کی گئی، کاپ COP-27 کانفرنس میں لاس اینڈ ڈیمجز فنڈ کا قیام عمل میں لایا گیا، جو قومی اسمبلی کی کامیاب پارلیمانی سفارتکاری کا عکاس ہے، 2022 قانون سازی کے اعتبار سے ایک تاریخی اہمیت کا حامل سال رہا، ۔سال 2022 میں قومی اسمبلی کے سوشل میڈیا کو عوام اور ان کے نمائندوں کے درمیان خلا کو پر کرنے کے لیے فعال بنایا گیا،
سال 2022 پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا اس اعتبار سے بھی اہم سال رہا ہے کہ اس سال میں پارلیمان نے قانون سازی کے علاؤہ کئی دیگر اہم سنگ میل عبور کیے،
جن میں ڈائمنڈ جوبلی کی تقریبات کے موقع پر پہلی بار پارلیمنٹ کے دروازے عوام کے لیے کھولے گئے،
جس میں خواتین، بچوں اور اقلیتوں، سابق اور موجودہ اراکین پارلیمنٹ نے شرکت کی۔
ڈائمنڈ جوبلی کی تقریبات میں سماج کے انتہائی پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے عوام کو مدعو کیا گیا،
اور انہیں ارکان پارلیمنٹ کے لیے مخصوص نشستوں پر بٹھایا گیا۔
ان ڈائمنڈ جوبلی تقریبات کو عوام میں بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی،
پارلیمنٹ میں کی گئی ایک بچے کی تقریر کو ٹوئٹر پر 60 لاکھ افراد نے دیکھا،پہلی بار پارلیمنٹ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ٹاپ ٹرینڈ رہا۔
آئی پی یو کے ایشیا پیسفک ریجن کے ایس ڈی جیز کے رکن ممالک کا دو روزہ سیمینار منعقد ہوا
سیمینار 13 اور 14 ستمبر 2022 کو قومی اسمبلی کی میزبانی میں پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔
سیمینار میں رکن ممالک کے مندوبین کو پاکستان میں سیلاب کی بدترین تباہی کاریوں سے آگاہ کیا گیا۔
آئی پی یو ایشیا پیسیفک خطے کے ممالک سے روانڈا میں آئی پی یو جنرل اسمبلی میں ہنگامی قرارداد پیش کرنے کو کہا گیا۔
اسپیکرقومی اسمبلی کی کوششوں سے روانڈا میں منعقدہ آئی پی یو کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک کے لیے فنڈ قائم کرنے کی قرارداد پیش کی گئی۔
عوام اور پارلیمنٹ کے نمائندوں کے درمیان خلا کو پر کرنے کے لیے قومی اسمبلی کے سوشل میڈیا نے فعال کردار ادا کیا۔
اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ پارلیمان میں ہونے والی عوامی نمائندوں کی سرگرمیوں کو فوری طور پر قابل رسائی بنایا جائے،
جس سے معاشرے میں عوامی نمائندوں سے متعلق جعلی خبروں کے کلچر کے رجحان کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔









