ملتان (ممتاز رپورٹ) مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے مرکزی صدر کاشف چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بیٹھ کر معاشی بحالی کے پلان پر غور کرنے کی بجائے رات 8 بجے دکانیں بند کرنے کے نمائشی اعلانات پر لگی ہوئی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت میں شامل جماعتیں اور اسمبلی کے باہر بیٹھی سیاسی قیادت اور ادارے صنعتی و تجارتی نمائندگان متحد ہوکر قلیل الوقتی اور طویل مدتی معاشی پیکج پر لائحہ عمل پر سنجیدگی سے بات کریں اور ایک ایسا میثاق معیشت سامنے لایا جائے جو حکومتوں کے آ نے جانے سے متاثر نہ ہو جو بھی حکومت آ ئے اسی گائیڈ لائن کے اندر عملدرآمد کی پابند رہے تب جاکر ملک کے معاشی مسائل حل ہوسکتے ہیں ملک بھر کی ٹیکسٹائل ملز کو بند کرنے کے فیصلے سے 20 لاکھ سے زائد غریب مزدور متاثر ہوں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملتان آ مد پر مرکزی تنظیم تاجران پنجاب کے نائب صدر ملک عمران قیوم بھٹہ،سرپرست حاجی غلام مصطفی جوئیہ، صدر شیخ شفیق چوک شہیداں اکبر روڈ،جنرل سیکریٹری شیخ طارق،چوہدری محمد فرخ،شہیر سے کی گئی ملاقات میں کیا کاشف چوہدری نے مزید کہا کہ صنعت و تجارت بحران کا شکار ہے مارکیٹس اور بازاروں میں معاشی بدحالی کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ گئی ہیں ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن نے ملک بھر کی ملز کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اسی طرح آ ٹو سیکٹر ہنڈا پارٹس کی امپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے پروڈکشن بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اگر یہی صورتحال جاری رہی تو بڑے پیمانے پر صنعتیں بند ہونے کا خطرہ ہے حکومت نے سنجیدگی سے ڈالر کی قیمت،بجلی،گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو کنٹرول نہ کیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس نظام میں بہتری نہ لائی گئی تو اور امپورٹ کے مسائل کو حل نہ کیا گیا تو صنعتی بحران پیدا ہونے کا خطرہ لاحق ہو جائے گا انہوں نے کہا کہ مسلسل قرض لینے کے نتیجے میں اس وقت ملک اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر سعودی عرب،چائنا اور متحدہ عرب امارات کی امانتی رقوم کو نکال کر عملاً زیرو ہو چکے ہیں دوسری جانب آ ئی ایم ایف کی قسط اور سود کی ادائیگی ہمارے سر پر لٹکتی تلوار کی طرح موجود ہے ایسی صورتحال میں سیاسی اکھاڑ پچھاڑ اور اقتدار کی رسہ کشی کی بجائے تمام سیاسی قیادت،اسٹیک ہولڈرز کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ڈیفالٹ کی خبروں پر پروپیگنڈوں کی بجائے سنجیدگی سے اس بات کا فیصلہ کرنا چاہیے کہ آ ئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے کس طرح جان چھڑائی جائے اور ملک کی خود انحصاری کی منزل کی طرف لیکر لے جایا جائے۔










