اسلام آباد (طارق محمود سمیر )مذہبی امور کے سابق وزیر مملکت اور معروف مذہبی شخصیت پیر امین الحسنات کی تحریک انصاف میں شمولیت سے سرگودھا میں تحریک انصاف کو ایک اہم امیدوار مل گیا ہے تاہم پیر امین الحسنات خود قومی اسمبلی کا الیکشن نہیں لڑینگے بلکہ وہ اپنے بھائی پیر فاروق شاہ کو تحریک انصا ف کے ٹکٹ پر لڑائیں گے ۔پیر امین الحسنات اور ان کے بھائی فاروق شاہ 2018تک مسلم لیگ (ن) کا حصہ رہے ہیں تاہم 2018ءمیں (ن)لیگ کی طرف سے پیر امین الحسنات اور ان کے بھائی فاروق شاہ کو ٹکٹ نہیں دیا گیا تھا اور حلقہ این اے 88سے ڈاکٹر مختار بھرت نے تحریک انصاف کے امیدوار ندیم افضل چن کو 30ہزار ووٹوں کے واضح فرق سے شکست دی تھی اور پیر امین الحسنات کی ندیم افضل چن کو در پردہ حمایت حاصل تھی ۔ پیر امین الحسنات جن کے میاں محمدنوازشریف سے ذاتی تعلقات رہے ہیں انہیں 2013ءمیں (ن)لیگ کا ٹکٹ دیا تھا اور انہوںنے ڈیڑھ لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کئے تھے اور ندیم افضل چن ان سے شکست کھا گئے تھے ۔ ندیم افضل چن پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے تھے ۔ پیر امین الحسنات 2013سے 2018تک مسلم لیگ (ن)کے دور حکومت میں وزیر مملکت برائے مذہبی امور کے عہدے پر رہے ۔2018ء میں انہوںنے لیگی قیادت سے درخواست کی کہ وہ خود الیکشن نہیں لڑ سکتے لہذا ان کے بھائی فاروق شاہ کو پارٹی ٹکٹ دیا جائے تاہم پارٹی کی مرکزی اور مقامی قیادت نے اس تجویز کو مسترد کردیا اور ڈاکٹر مختار بھرت کو مسلم لیگ (ن)کا ٹکٹ دیا تھا ۔2018ءمیں ندیم افضل چن کو فیورٹ قرار دیا جارہا تھا کیونکہ ان کے پاس ایک تو عمران خان کی مقبولیت کا ٹکٹ تھا اور ایک حلقہ میں ان کا ذاتی اثر روسوخ تھا تاہم مسلم لیگ (ن)کے نو جوان امیدوار ڈاکٹر مختار بھرت نے ندیم افضل چن کو 30ہزار ووٹوں کی اکثریت سے شکست دی اور اپنے بھائی صہیب بھرت کو بھی ایم پی اے بنوایا ۔ڈاکٹر امین الحسنات 2018ءکے بعد عملاً (ن)لیگ سے کنارہ کشی اختیار کر چکے تھے اور ان کی تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان سے علمائے مشائخ کانفرنسز میں ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں ۔پیر صاحب کی تحریک انصاف کی شمولیت میں سابق وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے اہم کر دارادا کیا ۔این اے 88نئی مرد م شماری کے بعد اب اے این 82بن جائیگا اور آئندہ الیکشن میں اس حلقے میں تین مضبوط امیدوار میدان میں ہونگے ایک (ن )لیگ کے ڈاکٹر مختار بھرت ، دوسرے پیپلز پارٹی کے ندیم افضل چن اور تیسرے تحریک انصاف کے پیر ڈاکٹر فاروق شاہ شامل ہیں اور یہاں دلچسپ اور سخت مقابلے کی توقع کی جارہی ہے ۔ بعض سیاسی حلقے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ندیم افضل چن پیپلز پارٹی کی طرف سے پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار بننے کے خواہش مند ہیں تاہم (ن)لیگ کی قیادت اپنے امیدوار کوکسی صورت دستبر دار کر نے کےلئے تیار نہیں ہے اس صورتحال پر جب (ن )لیگ کے رہنما ڈاکٹر مختار بھرت سے رابطہ کی گیا تو ان کا کہنا تھا کہ پیر امین الحسنات میرے لئے قابل احترام ہیں ،2018ءمیں جب انہیں (ن)لیگ کا ٹکٹ نہیں ملا تو انہوںنے تحریک انصاف کے امیدوار ندیم افضل چن کو سپورٹ کیا اور پورا علاقہ یہ بات جانتا ہے جبکہ ان کے بھائی فاروق شاہ نے 2008میں (ن)لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا تھا اور وہ ندیم افضل چن سے ہار گئے تھے ۔2018ءکے بعد پیر امین الحسنات کاعملاً (ن)لیگ سے کوئی تعلق نہیں تھا اور تحریک انصاف یہ غلط تاثر دے رہی ہے کہ (ن)لیگ کی بڑی وکٹ گرا دی ہے ایسی بات نہیں ہے ۔دوسری جانب پنجاب میں نگران وزیر اعلیٰ کے معاملے پر سیاسی نا پختگی اور ضد کے باعث معاملہ الیکشن کمیشن میں جا چکا ہے تاہم یہ بات قابل تحسین ہے کہ خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) نے سیاسی پختگی ، رواداری کا مظاہرہ کر کے اعظم خان کو نگران وزیر اعلیٰ مقرر کر دیا ہے اور انہوںنے حلف بھی اٹھا لیا ہے ۔پنجاب کے سیاستدانوں کو خیبر پختون خوا کی سیاسی روایات سے سبق سیکھنا چاہیے اور اپنی داڑھی الیکشن کمیشن میں بیٹھے ہوئے ریٹائرڈ بیورو کریٹس کے ہاتھ میں نہیں دینی چاہیے تھی اب اس بات کی توقع کی جارہی ہے کہ اتوار کی رات آٹھ بجے تک الیکشن کمیشن نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کا تقرر کر دے گا۔علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن)نے آئندہ عام انتخابات کےلئے جو پارلیمانی بورڈ تشکیل دیا ہے اس میں (ن)لیگ سندھ اور بلوچستان کو کوئی نماندگی نہیں دی گئی ،بلوچستان اور سندھ سے (ن)لیگ کا اس وقت اسمبلی میں کوئی ممبر نہیں ہے ۔تفصیلات کے مطابق (ن)لیگ کے قائد میاں نوازشریف کی سربراہی میں 32رکنی پارلیمانی بورڈ تشکیل دیا گیا ہے جس میں (ن)لیگ سندھ کے صدر شاہ محمد شاہ اور بلوچستان کے صدر جمال شاہ کاکڑ کو شامل نہیں کیا گیا ہے ۔سندھ اور بلوچستان کی اسمبلیوں میں اس وقت (ن)لیگ کی کوئی نمائندگی نہیں ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں جلد فیصلہ متوقع ہے ۔
پیر امین الحسنات کی علیحدگی ن لیگ کےلئے دھچکا،نگران وزیراعلیٰ کا انتخاب ،پنجاب کے پی جیسی سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام،طارق سمیر کا خصوصی تجزیہ








