بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بجلی بریک ڈائون،خزانے کوکتنے ارب کا نقصان ہوا؟زرداری کا پرویز الٰہی سے بدلہ

اسلام آباد(طارق محمود سمیر)ملک بھر میں بجلی کا طویل بریک ڈائون ہونے کے باعث ملکی خزانے کو ایک دن میں اسی سے سو ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے ، پی ڈی ایم حکومت کے دور میں یہ دوسرا بڑا بریک ڈائون کا واقعہ ہے ، ہمارے ہاں یہ روایت ہے کہ کسی کو غلطی پر سزا نہیں دی جاتی صرف انکوائری کمیٹی قائم کر کے معاملہ نمٹانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ وزیر توانائی خرم دستگیرفریکوئنسی متاثر ہونے کا بیان دے کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے ، انہیں تو چاہئے تھا کہ فوری طور پر قوم کو اعتماد میں لیتے ، گیارہ گھنٹے بعد ٹی وی پر آکر مختصر سا بیان دیا ، پورے ملک میں بجلی کا بریک ڈائون کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔انہیں قوم کو یہ بھی بتانا چاہئے کہ اکتوبر میں ہونے والے بریک ڈائون کے ذمہ داروں کو کیا سزا ملی ، یہ ایک ٹیکنیکل ایشو ہے ، این ٹی ڈی سی کے پاس بہت ماہر انجینئرز موجود ہیں لیکن سوچنے کی بات ہے کہ بار بار سسٹم میں ایسا کیوں ہو رہاہے ، ایک طرف قوم مہنگی بجلی خریدنے پر مجبور ہے اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں اور این ٹی ڈی سی کی تمام کرپشن اور نااہلی کی سزا عوام کو بجلی مہنگی کر کے دی جاتی ہے کیا کسی نے سسٹم کو اپ گریڈیشن کے حوالے سے کبھی کوئی کام نہیں کیا اگر کیا ہے تو قوم کو بتایا جانا چاہئے ۔علاوہ ازیں تحریک انصاف کے 45ارکان اسمبلی آج ریڈ زونز میں یہ استدعا لیکر گھومتے رہے کہ ان کے لیڈر نے انہیں استعفوں کے حوالے سے یوٹرن لینے پر مجبور کر دیا ہے لہذا ان کے استعفے منظور نہ کئے جائیں۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ملک میں قبل از وقت انتخابات کرانے کے لئے پہلے مرحلے میں اپنے 127ارکان قومی اسمبلی کے استعفے جمع کرائے لیکن پی ڈی ایم حکومت کو جلد انتخابات کرانے پر مجبور نہ کرسکے ، بعد میں انہوں نے حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کیں لیکن پی ڈی ایم کی وفاق میں حکومت ان کے دبائو میں نہیں آئی تو عمران خان نے ایک اور یو ٹرن لیکر اسمبلی میں واپسی کا اعلان کر دیا جس کا جواب حکومت نے سپیکر سے 70استعفے منظور کروا کر دیا ، اب حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان راجہ ریاض کو اپوزیشن لیڈر برقرار رکھنے اور ہٹانے کی سیاسی جنگ جاری ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ سپیکر راجہ پرویز اشرف آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 30استعفے منظور کر لیں گے جس کے بعد راجہ ریاض کو اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے آئینی اور قانونی طور پر ہٹانا تحریک انصاف کے لئے ناممکن ہو جائے گا۔تحریک انصاف کے اندر فیصلہ سازی بروقت اور صحیح انداز میں نہیں ہوتی اور باربار قیادت کو یوٹرن لینا پڑتا ہے ۔ تحریک انصاف میں 8ایسے سینئر بانی رہنما ہیں جو کسی وقت بہت متحرک ہوتے تھے تاہم موجودہ صورتحال میں یہ خاموش ہو گئے ہیں ان 8میں ایک خاتون سابق وفاقی وزیر بھی شامل ہیں جو موجودہ صورتحال میں تحریک انصاف کی حکمت عملی سے نالاں ہیں ۔تحریک انصاف جس کو عوام میں مقبولیت تو حاصل ہے لیکن اس مقبولیت کو کیش کرانا سب سے بڑا سوال ہے ، ایک زرداری سب پہ بھاری کا نعرہ پنجاب میں نگران وزیراعلیٰ کے انتخاب میں ایک مرتبہ پھر ثابت ہو گیا ہے اور ایسے محسوس ہوتا ہے کہ آصف علی زرداری اور چوہدری شجاعت حسین نے مسلم لیگ (ق) کے رہنما سابق وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی سے ان کے قریبی رشتہ دار محسن نقوی کو نگران وزیراعلیٰ بنوا کر خوب بدلہ لیا ہے کیونکہ جب مولانا فضل الرحمن اور آصف زرداری نے میاں نوازشریف سے چوہدری پرویز الٰہی کو پی ڈی ایم کا وزیراعلیٰ بنوانے کا مطالبہ تسلیم کرالیا تھا تو آخری لمحات میں چوہدری پرویز الٰہی نے مونس الٰہی کے کہنے پر عمران خان سے اتحاد کر لیا جس کا چوہدری شجاعت حسین اور آصف زرداری کو بہت دکھ ہوا تھا اور دونوں نے کہاتھا کہ چوہدری پرویز الٰہی نے اچھا نہیں کیا جبکہ آصف زرداری نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ چوہدری پرویز الٰہی نے اچھا نہیں کیا اور انہوں نے اپنے منہ بولے بیٹے محسن نقوی کو نگران وزیراعلیٰ بنوا کر چوہدری پرویز الٰہی سے بدلہ لے لیا ہے ۔