بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سوشل میڈیا کا استعمال ناگزیر ،بچے اپنا قیمتی وقت حصول علم پر صرف کریں اسی میں کامیابی ہے،ڈاکٹر ناصر جمال

اسلام آباد(ممتاز نیوز)چیئرمین قمر جہاں فاؤنڈیشن و صدر پاکستان گرین ٹاسک فورس ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا ہے کہ محنت اور لگن کے بغیر انسان علم حاصل کرسکتا ہے اور نہ ہی عملی زندگی میں کامیابی ممکن ہے،طالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ کرکے ہم ایک بہترین قوم کی تشکیل کر سکتے،جدید علوم اور ٹیکنالوجی پر دسترس حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اس کے بغیر ہم اقوام عالم کے ساتھ چل سکتے ہیں اور نہ ہی دنیا نی چیلجنز کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ہمیں عہد کرنا ہو گا کہ ہم سچ کا بول بالا کریں گے،اور علم کی بدولت دنیا میں پاکستان کا نام روشن کریں گے۔والدین کے ساتھ ساتھ اساتذہ کرام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی تعلیم و تربیت پر دھیان دیں۔سوشل میڈیا کا استعمال ناگزیر ہو چکا لیکن بچوں اور بچیوں کو چاہئے کہ اپنا قیمتی وقت حصول علم پر صرف کریں اسی میں کامیابی ہے۔ان خیالات کا اظہار چیئرمین قمر جہاں فاؤنڈیشن و صدر پاکستان گرین ٹاسک فورس ڈاکٹر جمال ناصر نے گورنمنٹ ماڈل کالج آف کامرس برائے خواتین سیکٹر F-10/3اسلام آباد میں ”تعلیم کی اہمیت و افادیتّ“ کے موضوع پر منعقدہ ایک آگاہی نشست سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب کی صدارت کالج کی پرنسپل میڈم ثمرہ لطیف نے کی۔تقریب کا آغاز رابعہ اشرف سے تلاوت کلام پاک سے کیا۔جبکہ کائنات کیانی نے نعت شریف ؐ پیش کیا۔استیج سیکرٹری کے فرائض وجیعہ اشرف سے سرانجام دئیے۔پرنسپل ثمرہ لطیف نے اپنے خطاب میں طالبات کو تلقین کی کہ وہ وقت کی قدر کریں،غیر ضروری سرگرمیوں سے اجتناب برتیں،انہوں نے کہا کہ احساس ذمہ داری کا فقدان ہمارے بہت سے مسائل کا سبب ہے۔روز قیامت ہمیں اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب دینا ہے۔ہمیں اللہ کی نعمتوں کا ہر لمحہ شکر ادا کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ملک و ملت کے بہتر مستقبل کیلئے ہمیں اپنے اندر تبدیلی لانا ہوگی۔ ثمرہ لطیف نے کہا کہ پانی اللہ کی بڑی نعمت ہے،ہمیں اس کی قدر کرنا چاہئے۔پانی کا ضیاع المیہ ہے۔مستقبل قریب میں ہمیں پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اس لئے ہمیں اعتدال سے کام لینا ہوگا۔ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا کہ اقبال ؒ کی شاعری نوجوانوں کے لئے بڑ اپیغام لئے ہوئے ہے۔ہمیں اسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنا ہوگا۔حرام اور حلال میں تمیز کرنا ہو گی۔کیونکہ جیسا ہم کھاتے ہیں ویسا ہی اس کا اثر ہوتا ہے۔ جھوٹ اور مکر فریب نے ہماری نظریاتی اساس کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔تعلیم کی اہمیت مسلمہ ہے اور ہمیں تعلیم یافتہ، باکردار اور باصلاحیت لوگوں کو آگے لانا ہوگا۔اس کے بغیر ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے اور نہ ہی عام آدمی کے حالات میں بہتری آ سکتی ہے۔