بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اقلیتوں کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کا طریقہ کار آئین کے آرٹیکل 226 کی خلاف ورزی ہے، جے سالک

اسلام آباد (ممتاز نیوز)سابق وفاقی وزیر ممتاز مسیحی راہنماء اور ورلڈ مینارٹیز الائنس کے کنونیئر جے سالک نے کہا کہ اقلیتوں کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کا طریقہ کار آئین کے آرٹیکل 226 کی خلاف ورزی ہے، عوامی نمائندوں کو عوام کے ووٹ کے ذریعے منتخب ہو کر اسمبلیوں میں جانا چاہیئے، مخصوص نشستوں پر اسمبلیوں میں بیٹھنے والے کسی بھی طرح عوامی نمائندے نہیں ہو سکتے،مخصوص نشستیں عوام کی نمائندہ نہیں بلکہ پارٹیوں کی نمائندہ ہیں، سپریم کورٹ نے اس حوالے سے تیرہ برس بعد فیصلے دیدیا ہے، انہوں نے ان خیالات کا اظہار اپنی رہائشگاہ میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، جے سالک کا مزید کہنا تھا کہ مینارٹیز رائٹس کے چارٹر پر سر ظفراللہ خان نے دستخط کئے تھے،آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت اقلیتوں کی کوئی نشست ووٹ کے بغیر نہیں ہو سکتی مگر پیپلز پارٹی نے 18 ویں ترمیم میں اسے وفاق کے بجائے صوبوں کے حوالے کر دیا ہے، اسمبلیوں میں مختص مخصوص نشستیں عوام کی نمائندہ نہیں بلکہ پارٹیوں کی نمائندہ ہیں، آئین کے بنیادی ڈھانچے کو کسی صورت نہیں چھیڑا جا سکتا،18 ویں ترمیم میں مینارٹیز کے حقوق کا تحفظ نہیں کیا گیا ہے،بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے اقلیتوں کو مقدس امانت قرار دیا تھا تاہم 18 ویں ترمیم کے بعد ہم صوبوں کی امانت ہو گئے ہیں،مینارٹی وزارت کو ختم کر کے صوبوں کو دیدی گئی ہے، انہوں نے اقلیتوں کی مخصوص نشستیں براہ راست انتخاب کے ذریعے پر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انکا حلقہ پورا پاکستان ہونا چاہیئے،یہ ملک خدا کی نعمت ہے ہمیں اسکا شہری ہونے پر فخر ہے، ہمیں یہاں کبھی بھی کسی قسم کی سیکیورٹی کا مسئلہ درپیش نہیں آیا، اس ملک کی سب سے بڑی بد قسمتی نیشنل ازم کا نہ ہونا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ میں جے سالک پر کتاب کا چھپنا اور نوبل انعام کیلئے نامزد ہونا پاکستان کیلئے باعث فخر بات ہے، ہم جمہوریت کی لڑائی لڑ رہے ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ اقلیتی نمائندے براہ راست انتخاب کے ذریعے منتخب ہو کر اسمبلیوں میں آئیں تاکہ وہ اپنی قوم کی نمائندگی کا حق ادا کر سکیں۔