بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ڈالر ریٹ پر حد ختم کرنے کا فیصلہ،نئی قیمت 250 روپے سے زائد ہوگی

پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت پر سے کیپ (مقرر کردہ حد) ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے بعد مارکیٹ میں اس کی نئی قیمت 250 روپے سے زائد ہونے کا امکان ہے۔
منگل کو ایکسچینج کمپینز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے ملک میں ڈالر ریٹ پر کیپ ختم کرنے کا اعلان کیا۔
معاشی ماہرین کے مطابق ’ڈالر ریٹ پر پابندی ختم ہونے کے بعد مارکیٹ میں ڈالر تو دستیاب ہوگا لیکن عوام کو ڈالر سے خریدی گئی ہر چیز پر نئے ریٹ کے حساب سے قیمت ادا کرنا ہوگی اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔
ایکسچینج کمپنیز آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ نے عرب نیوز ویب سائٹ ’’اردو نیوز‘‘ کو بتایا کہ ’کل سے ملک میں اوپن مارکیٹ کے ریٹ 250 روپے سے زائد پر ڈالر کی خرید و فروخت کی جائے گی۔ موجودہ صورت حال میں ڈالر کے ریٹ کو کم رکھنے کا فائدہ گرے مارکیٹ کو پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ منگل کو موجودہ ملکی معاشی صورتحال کے پیش نظر ایکسچینج کمپنیز کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا ہے۔
اجلاس میں کہا گیا کہ تیزی سے بڑھتی گرے مارکیٹ کو روکنے کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ ڈالر ریٹ پر کیپ ختم کیا جائے تاکہ گرے مارکیٹ کی طرف جانے والا ڈالر مارکیٹ میں ہی رکھا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈالر ریٹ پر کیپ لگانے کا فیصلہ ملکی مفاد میں کیا تھا تاہم اس کے نتائج غلط آتے نظر آرہے تھے۔
مارکیٹ میں ڈالر کی مصنوعی قلت پیدا کی جا رہی تھی اور لوگ ہم سے کم ریٹ میں ڈالر خرید کر گرے مارکیٹ میں من مانے داموں ڈالر فروخت کر رہے تھے۔
معاشی امور کے ماہر خرم حسین نے کا کہنا ہے کہ ڈالر ریٹ سے کیپ ہٹانا لازم تھا۔ اس فیصلے کے بعد انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کے ریٹ میں فرق متوقع ہے۔
ڈالر کا ریٹ بہتر ہوگا تو بیرون ممالک میں مقیم افراد بھی قانونی طریقے سے ڈالر ملک بھیجیں گے جس سے گرتے ترسیلات زر بہتر ہوں گے۔ لیکن اس کے منفی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔ اور اس کا نقصان مہنگائی کی صورت میں عوام کو بھگتنا پڑے گا۔ ہر وہ چیز جو ڈالر میں خریدی جائے گی اسے روپے میں فروخت کرنے پر یہ اثر نظر آئے گا۔‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تیل، گیس سمیت کئی مصنوعات درآمد کی جاتی ہے۔ ’ان مصنوعات کی ادائیگی ڈالرز میں کی جاتی ہے۔ اور ڈالر ریٹ بڑھنے سے ان تمام مصوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے تقریباً تمام ہی شعبوں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں اور عوام کو مہنگائی کی صورت اسے بھگتنا پڑتا ہے۔‘
ڈالر ریٹ پر کیپ کیا ہے؟
ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ ڈالر ریٹ پر کیپ ایک ایسا نظام ایکسچینج کمپینز نے متعارف کروایا تھا جس کے ذریعے سے ڈالر کے ریٹ کو ایک سطح تک محدود رکھا گیا تھا اور ڈالر میں سٹے بازی کے عمل کو ختم کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ڈالر ریٹ پر کیپ کا فیصلہ ہم نے ہی کیا تھا اور اسے ختم کرنے کا فیصلہ بھی ہم ہی کر رہے ہیں۔‘
خرم حسین نے کہا کہ ڈالر ریٹ سے کیپ ہٹنے سے مارکیٹ کو تو فائدہ ہوگا لیکن عوام کو نقصان پہنچے گا۔ ’ڈالر سے خریدی جانے والی تیل اور گیس سمیت تمام مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا جس سے عام آدمی براہ راست متاثر ہوگا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ڈالر ریٹ کو محدود رکھنے کے لیے وزیر خزانہ اسحاق ڈار اس سسٹم کے حق میں ہیں۔ لیکن اس سے مارکیٹ کو نقصان پہنچا ہے۔ لوگوں نے ریٹ کم ہونے کی وجہ سے ڈالر ہولڈ کیے ہیں اور بیچنے کو ترجیح نہیں دے رہے ہیں کیونکہ بلیک مارکیٹ اور سرکاری ریٹ میں فرق بہت زیادہ ہے۔‘
معاشی امور کے ماہر عبدالعظیم نے بتایا کہ کیپ سسٹم ہٹانے سے معیشت کو نقصان ہوگا۔ اس سے بلیک مارکیٹ کو فائدہ ہوگا۔
’ملک میں ترسیلات زر میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔ انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ کے ریٹ میں اگر بڑا فرق ہوگا تو بیرون ممالک سے لوگ قانونی طریقوں سے ہٹ کر ہی پیسے بھیجیں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا اور آنے والے دنوں میں عوام کو مہنگائی کا مزید بوجھ اٹھانا پڑے گا۔
یاد رہے کہ ملک میں اس وقت ڈالر کے مختلف ریٹ ہونے کی وجہ سے انٹربینک اور اوپن مارکیٹ کے ساتھ ساتھ گرے مارکیٹ بھی فعال ہے۔
منی چینجرز کے مطابق مرکزی بینک کے جاری کردہ انٹربینک میں ڈالر کا ریٹ 230 روپے پر ہے اور اوپن مارکیٹ میں 237 روپے پر ہے جبکہ گرے مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت 260 روپے سے 265 روپے ہے۔
ریٹ میں 30 روپے کے بڑے فرق کی وجہ سے غیر قانونی طور پر کرنسی کا کام کرنے والوں کا کاروبار اس وقت عروج پر ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ایک سینئر افسر کے مطابق ایف آئی اے کی جانب سے ملک کے مختلف شہروں میں غیر قانونی کرنسی کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے تاہم اس کاروبار میں بے شمار نئے افراد کے شامل ہونے کی وجہ سے ایف آئی اے کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔