بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

 ریلوے کا مارگلہ سے کراچی تک چلنے والی گرین لائن ٹرین کا ملتان میں سٹاپ بنانے پر غور

  ملتان (مقبول حسین)ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ پاکستان ریلوے ملتان ڈویژن حماد حسن مرزا نے کہا ہے کہ مارگلہ سے کراچی تک چلنے والی گرین لائن ٹرین کا ملتان میں سٹاپ دینے پر ریلوے ہیڈ کوارٹر غور کررہا ہے۔
یہ بات انہوں نے ایوان تجارت و صنعت ملتان کے دورہ کے موقع پر ایوان کی مجلس عاملہ کے اراکین سے خطاب کے دوران بتائی۔
انہوں نے کہا کہ ایم ایل ون 10ارب ڈالر کا پراجیکٹ ہے اور ریلوے کے لیے ایک گیم چینجر منصوبہ ہے جس کی تکمیل سے ریلوے جدید دور میں داخل ہوجائے گی یہ منصوبہ بعض وجوہات کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوا تاہم اب جلد ہی لالہ موسی اور راوالپنڈی کے قریب 60کلومیٹر کے ایریا میں جوکہ زیادہ تر ٹنل اور پہاڑی سلسلہ ہے پر کام شروع کرنے کا ٹینڈر عنقریب اخبارات میں شائع ہوگا ایم ایل ون میں ٹرینوں کی رفتار 160کلو میٹر فی گھنٹہ جس سے کراچی لاہور کاسفر 12گھنٹے ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ اس منصوبہ کی وجہ سے ریلوے لائن کے دونوں اطراف باڑ لگا کر سفر کو محفوظ بنادیاجائے گا ۔
انہوں نے کہا کہ ریلوے سروس میں ٹرینوں کا وقت پر نہ پہنچنے کا مسئلہ حل کررہے ہیں ملتان ڈویژن میں یہ تقریباً ختم ہوچکا ہے ملتان سے کراچی سروس میں اب یہ لگ بھگ 40منٹ رہ گیا ہے تاہم اس کی وجوہات میں ایک تو سسٹم کا پرانا ہونا دوسرے غیر متوقع حالات یا تکنیکی خرابی ہوتی ہے تاہم اب ریلوے ٹرینوں میں آنے والی خرابی کو دور کرنے کے لیے تھرڈ پارٹی سسٹم شروع کردیاگیا ہے ملتان ڈویژنل آفس کے پاس 10ہزار افراد کی منظور شدہ افرادی قوت کے مقابلے میں صرف 6ہزار ملازمین کام کررہے ہیں پھر بھی ریلوے کی بہتری اور بہتر سروس مہیا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس پر بھی سوچ و بچار ہورہاہے کہ جیسے ہر ایم این اے کو ترقیاتی فنڈز یا منصوبے دئیے جاتے ہیں اسی طرح ان کو ہر سال پانچ سات کلومیٹر ریلوے ٹریک بچھانے کے منصوبے بھی دیئے جائیں بشرط کہ موقع کے لحاظ سے یہ منصوبہ ممکن ہو۔
ایک سوال کے جواب میں حماد حسن مرزا نے کہا کہ ملتان سے فیصل آباد کے لیے ٹرین سروس دینے اور ملتان سے کراچی جانے والی زکریا ایکسپریس کے حوالے سے کوشش کی جارہی ہے کوٹہ سسٹم صرف پارلیمنٹرین اور آرمی کے لیے مختص ہےوہ کسی ادارے کے لیے مختص کرنا ممکن نہیں انہوں نے کہا ریلوے کی طرف سے اےسی سلیپر کی بند کی گئی سہولت کو اب دو سے تین ٹرینوں میں دوبارہ بحال کردیا گیا ہے ملتان کو گرین لائن ٹرین کا سٹاپ دینے سے اس کا سفر کا دورانیہ 45منٹ بڑھ جائے گا اور یہ رات ساڑھے بارہ بجے ملتان پہنچے گی اس وقت ملتان سے کراچی اور پنڈی جانے کے لیے دیگر ٹرینیں بھی دستیاب ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ ریلوے بورڈ کی نئی تشکیل ہوئی ہے جب تک ریلوے ایڈوائزری بورڈ فنکشنل رہا یہ ادارہ منافع میں تھا دعا ہے کہ ملک میں سیاسی معاملات میں ٹھہرائو آئے تاکہ اداروں کے معاملات بہتر ہوں ممبران کے سوالات کے جوابات میں انہوں نے کہا کہ ملتان کاروباری حب بن چکا ہے یہاں سے زیادہ آمدنی پی ایس او آئل ٹرین سے ہے ڈیفنس پوانٹ آف ویو سے پارکو ایک نیا ٹریک چاہتا ہے اس پر بھی کام ہورہا ہے ایوان تجارت و صنعت ملتان ریلوے سروس کو بہتر بنانے اور مسائل کے حل کے لیے ہمارے ساتھ بیٹھے ہم فوری طور پر اپنی حد تک سب کچھ کرنے کو تیار ہیں اس موقع پر ڈپٹی ڈی ایس صائمہ بشیرڈویژنل انجینئر عابد رزاق ڈویژنل کمرشل آفیسر عدنان مروت بھی موجود تھے۔
ایوان تجارت و صنعت ملتان کے صدر میاں راشد اقبال نے سپاسنامہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملتان ڈویژن میں کاروباری افراد کو مال گاڑیوں کی نقل وحمل میں کافی مشکلات ہیں جس کی وجہ سے مال کی ڈیلیوری میں پانچ سے آٹھ دن لگ جاتے ہیں اس طرح ریلوے ملتان کے پاس شنٹنگ کے لیے کم پاور انجن دستیاب نہیں جس کی وجہ سے مال گاڑیوں کی کپلنگ میں بہت مشکلات ہیں ملتان کینٹ اسٹیشن سے سٹی اسٹیشن ریلوے ٹریک کو فوری اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے اس کے علاوہ شہری حدود میں ریلوے لائن کے اطراف مضبوط باڑ لگائی جائے اور شہروں کے درمیان میں سے یا نزدیک موجود ریلوے کراسنگ پر پھاٹک لگا کر عملہ تعینات کیا جائے۔
نائب صدر شیخ محمد عاصم سعید نے کہا کہ اس وقت کاروباری طبقہ ریلوے کے سروس معیار کو دیکھ رہا ہے ریلوے کی طرف سے گڈز ٹرینوں کا لیٹ ہونا مال کی ڈیلیوری آٹھ سے دس دنوں میں ہونے سے کاروباری افراد دیگر ٹرانسپورٹ ذرائع کی طرف منتقل ہورہے ہیں جس سے ناصرف ریلوے کو نقصان ہورہا ہے اس سے کاروباری افرادکے اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں ریلوے اگر سسٹم میں کچھ بہتری لے آئے تو اس کا بہت بڑا فائدہ ریلوے کے ساتھ ساتھ کاروباری افراد کو بھی ہوگا۔