مصنوعی ذہانت یا آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی کا استعمال دنیا بھر میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
اسے آنے والے دور کی ٹیکنالوجی قرار دیا گیا ہے اور زندگی کے مختلف شعبوں کے لیے اے آئی مصنوعات کو استعمال کیا جارہا ہے۔
حال ہی میں ایک 20 سالہ آرٹسٹ ایلکسا نے اے آئی ٹیکنالوجی کو استعمال کیا تاکہ معلوم ہوسکے کہ مصنوعی ذہانت کی نظر میں مختلف ممالک کی خواتین کیسی ہوسکتی ہیں۔
ایلکسا نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ‘میں یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ اے آئی ٹیکنالوجی مختلف ثقافتوں کو کس حد تک اپنا سکتی ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘میں ہمیشہ نئی انقلابی ٹیکنالوجیز کو تلاش کرتی ہوں جو ہماری زندگیوں میں تبدیلی لاسکتی ہیں۔ مجھے پہلی بار اے آئی نے اس وقت مسحور کیا جب چیٹ جی پی ٹی کو عوام کے لیے پیش کیا گیا اور میں یہ دریافت کرکے دنگ رہ گئی کہ ہم اس ٹیکنالوجی کو آرٹ کی تیاری کے لیے بھی استعمال کرسکتے ہیں’۔
ایلکسا کی تیار کردہ چند تصاویر آپ نیچے دیکھ سکتے ہیں جو انہوں نے ٹوئٹر پر پوسٹ کی تھیں۔
جرمنی اور برطانیہ
ایران اور روس
میکسیکو اور جاپان
جمیکا اور یونان
اسپین اور بھارت
ترکی اور اٹلی
چین اور یوکرین
پرتگال اور کینیڈا
پاکستان اور سعودی عرب
نیوزی لینڈ اور ایتھوپیا










