اسلام آباد(ممتازنیوز) امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نےکہاہے کہ مقبوضہ کشمیر بارود کا ڈھیر ہے،خطے میں اس تنازع کے باعث ایٹمی جنگ کے خطرات منڈلا رہے ہیں،مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت کو تبدیل کرتے ہوئے بھارت پانچ دس سال کے بعد خود کشمیر میں رائے شماری کا مطالبہ کر سکتا ہے جبکہ ہمارے حکمرانوں کو اس معاملے کا ادراک بھی محسوس نہیں ہوتا۔
انہوں نے جمعہ کو روس، جرمنی، ملائشیا، ناروے، ترکمانستان، افغانستان، ایران، آذربائیجان اور دیگر ممالک کے سفارتکاروں سے مقبوضہ کشمیر کی تازہ صورتحال اور علاقے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق جماعت اسلامی شعبہ امور خارجہ جانب سے منعقدہ سیمپوزیم میں گفتگو کی۔ سیمپوزیم کا انعقاد اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں کیا گیا تھا۔سراج الحق نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 75 سالوں سے مسئلہ کشمیر سلگ رہا ہے اور کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل اور قبرستان بن چکا ہے۔ پاکستان میں تعینات سفیروں سے درخواست ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے انصاف پر مبنی حل کے لیے تعاون کریں،انسانوں کی آزادی کے لیے معاونت کرنا فرض ہے۔،انسانی المیہ روکنے کے لیے سفیروں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، ۔ چالیس لاکھ سے زائد غیر مقامی افراد کو کشمیر میں بسا دیا گیا ہے ہر دن کشمیر میں سانحہ پولیس لائن پشاور کی طرح کا واقعہ ہوتا ہے۔ ایک ارب سے زائد انسان اس تنازع کی وجہ سے معاشی ترقی اور خوشحالی سے محروم ہیں۔شعبہ امور خارجہ جے آئی کے ڈائریکٹر آصف لقمان قاضی نے مہمان سفیروں اور دیگر شخصیات کا خیر مقدم کیا۔ تقریب سے سابق پولیس آفیسر ذوالفقار چیمہ، جنرل (ر) ہمایوں عزیز، مشعال ملک، تحریک حریت جموں کشمیر کے کنوینئیر غلام محمد صفی، کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر و پاکستان شاخ کے کنوینئیر محمود احمد ساغر، سابق سفیر ابرار کے علاوہ دیگر شخصیات نے بھی گفتگو کی۔ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل امیر العظیم، نائب امیر میاں محمد اسلم، ضلعی امیر نصر اللہ رندھاوا بھی اس موقع پر موجود تھے۔سراج الحق نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا سلگتا مسئلہ خطے کے امن کے لیے مسلسل خطرہ ہے۔ اس کی تاریخی بھی اور نئی حیثیت بھی ہے ہر روز مقبوضہ کشمیر میں قیامت برپا ہوتی ہے ہر روز ماتم ہوتا ہے روزانہ تین کشمیری ظلم و جبر کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر بارود کاڈھیر اور چار ایٹمی طاقتوں روس، چین، پاکستان، بھارت کے درمیان ایسا علاقہ ہے جہاں سات لاکھ سے زائد بھارتی فوج تعینات ہے۔ مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکا ہے سب سے بڑا قبرستان بن چکا ہے۔ ایک نہیں مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں نیلسن منڈیلا ہیں ان میں یاسین ملک شبیر شاہ اور پابند سلاسل کئے گئے دیگر رہنما اور جوان شامل ہیں۔ ہم چاہتے ہیں مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ مشرقی تیمور، مغربی سوڈان کئی دیگر ممالک میں استصواب رائے ہو سکتا ہے تو مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بے حسی کیوں ہے اس حوالے سے اقوام متحدہ کی دو درجن سے زائد قرار دادوں کو بے اثر کیوں بنا دیا گیا ہے جبکہ یہ حق اقوام متحدہ کے منشور کے تحت کشمیریوں کو ملا ہے۔ آزادی ہر انسان کا حق ہے زندگی ہر انسان کا حق ہے مگر مقبوضہ کشمیر کے عوام آزادی اور زندگی سے محروم ہیں۔ ہر وقت موت کا سایہ منڈلا رہا ہے۔ بچوں اور جوانوں کے لیے سکولز اور تعلیمی ادارے بند ہیں البتہ قبریں کھلی ہیں۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں مسلسل عسکریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا کھیل جاری ہے۔ پانچ دس سال کے بعد اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر کے بھارت خود مقبوضہ کشمیر میں استصواب رائے کا مطالبہ کر سکتا ہے کیونکہ چالیس لاکھ سے زائد غیر مقامی افراد مقبوضہ کشمیر میں بسا دئیے گئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کا انجام کیا ہو گا۔ ہر روز کشمیر میں سانحہ پشاور کی طرح کا واقعہ ہوتا ہے مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر پاکستان اور بھارت کے ایک ارب سے زائد انسانوں کی خوشحالی کو ممکن نہیں بنایا جا سکتا۔ خطے میں بے یقینی کی صورتحال اور خوف کے سائے ہیں۔ وسائل تعلیم و صحت کی بجائے ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں خطے کے روشن مستقبل کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے۔ یہ کوئی سرحدی تنازعہ یا انسانی حقوق کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک کروڑ سے زیادہ جینے مرنے کا مسئلہ ہے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کا اصل فریق کشمیری ہے سلامتی کونسل نے بار بار ان کے حق کو تسلیم کیا ہے سفیروں کو درخواست کرتا ہوں کہ جہاں وہ اپنے ممالک کے مفادات کے محافظ ہیں پوری دنیا کو جنگ سے بچانے کے لیے مسئلہ کشمیر کے انصاف بر مبنی حل کے لیے تعاون کریں انسانوں کی آزادی میں تعاون فرض ہے۔ اس اجلاس سے کشمیریوں کو نیا حوصلہ ملے گا۔ انسانیت کے لیے ضمیر کو بیدار کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں انسانی المیے کو روکنے کے لیے کردار ادا کریں۔









