اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سابق صدر آصف زرداری پر قتل کی سازش کے الزام سے متعلق کیس میں شیخ رشید کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
شیخ رشید کی ضمانت منظور ہوگی یا نہیں ؟ تین بجے فیصلہ سنایا جائےگا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں شیخ رشید کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ عمرشبیر نےکی۔
عدالت نے شیخ رشید کیس سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کا تحریری فیصلہ جمع کرانےکی ہدایت کی جس پر شیخ رشید کے وکلا کی جانب سے ہائی کورٹ کا تحریری فیصلہ عدالت میں جمع کرادیا گیا۔
جج نے شیخ رشید کے وکیل سے استفسار کیا آپ کےمطابق شیخ رشید عمران خان کے قتل کی سازش کاحصہ نہیں؟ اس پر وکیل کا کہنا تھا کہ شیخ رشید نے عمران خان کے بیان کا حوالہ دیا اور کہا وہ جو کہہ رہے ہیں ٹھیک کہہ رہے ہیں، شیخ رشید کا بیان نشر ہونے سے دو روز قبل ہی مقدمہ درج ہوگیا تھا۔
شیخ رشید کے وکیل کا کہنا تھا کہ پولیس کے سامنے بھی قتل ہوجائے تو مقدمہ اتنی جلدی درج نہیں ہوتا، پولیس نے خود انکوائری کی اور مقدمہ بھی درج کر دیا، پولیس کو چاہیے تھا کہ شیخ رشید کا موقف لیتی اور اس پرقتل کی سازش کے حوالے سے تفتیش کرتی،لیکن الٹی گنگا بہہ گئی، عمران خان کا بیان حقیقت پرمبنی ہے، عمران خان کے خلاف قتل کی سازش ہو رہی جس پر مقدمہ نہیں بنایا جارہا، البتہ آصف زرداری کی بدنامی پر مقدمہ درج کردیا گیا۔
وکیل کا کہنا تھا کہ پولیس نے 31 جنوری کو شیخ رشیدکو نوٹس جاری کیے، نوٹس شیخ رشید کو موصول نہیں ہوئے بلکہ ٹیلی ویژن پر نشر ہوئے، اگلےدن ہائی کورٹ سے نوٹس معطل ہوئے تو شیخ رشید کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا، ریاست کےکسی افسر نے شیخ رشید کے خلاف شکایت درج نہیں کرائی، ایک عام شہری نے الزام لگایا جو پیپلزپارٹی کا ورکر ہے، آصف علی زرداری اگر الزام لگاتے تو الگ بات تھی، الزامات لگانے پر آصف زرداری کی جانب سے عمران خان کو ہتک عزت کا نوٹس بھیجا جاسکتا تھا، شیخ رشید نےکہا عمران خان جو کہتے سچ کہتے ہیں جھوٹ نہیں کہتے، اس پرمقدمہ درج کرلیا گیا۔
شیخ رشید کے وکیل کا کہنا تھا کہ شیخ رشید سے جسمانی ریمانڈ کے دوران پولیس کو کچھ برآمد نہیں ہوا، مقدمہ صرف سیاسی انتقام لینے کے لیے درج کیا گیا ہے، شیخ رشید کے گھر پر رات کو دھاوا بولا گیا، ساڑھے7 لاکھ سے زیادہ کیش پولیس لےگئی، متعدد قیمتی تحفے بھی پولیس لےگئی، پولیس شیخ رشید کی دو بلٹ پروف گاڑیاں بھی ساتھ لے گئی۔
وکیل سردار عبدالرازق کا کہنا تھا کہ شیخ رشید سے اب کوئی تفتیش کی ضرورت نہیں اس لیے ان کی ضمانت منظور کی جائے، ہائی کورٹ نے بھی فیصلے میں مزید کسی کارروائی سے روک دیا ہے۔









