اسلام آباد (وقائع نگار) مسلم لیگ (ن) کے راہنما، سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ سیاسی معاملات پر عدالتی تبصرے قومی مفاد میں نہیں، خاص طور پر آج کل کے حالات میں جب کہ سیاسی انتشار عروج پر ہے اور قوم بری طرح تقسیم ہے۔ اپنے ایک اخباری بیان میں انہوں نے سپریم کورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کے ریمارکس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریمارکس ایک مخصوص سیاسی جماعت کے موقف کی ترجمانی کرتے ہیں۔ جناب چیف جسٹس کا یہ کہنا کہ ملک کے تمام مسائل کا حل عوام کے فیصلے میں ممکن ہے۔ موجودہ پارلیمنٹ کو جان بوجھ کر نامکمل رکھا جا رہا ہے۔ اس پارلیمنٹ سے ہونے والی قانون سازی بھی متنازع ہو رہی ہے، عمران خان کے موقف کو تقویت پہنچاتا ہے۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ اس وقت بھی قومی اسمبلی آئینی طور پر ہر طرح کی قانون سازی کا اختیار رکھتی ہے۔ اگر اکثریت کھو دینے کے بعد ایک وزیر اعظم عہدے پر نہیں رہتا اور وہ اپنے حامیوں سمیت مستعفی ہو جاتا ہے تو پوری اسمبلی کو اس طرح کے سیاسی حربے کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا۔ عرفان صدیقی نے کہاکہ پارلیمنٹ کی حدود میں مداخلت پہلے ہی جمہوریت کو بہت نقصان پہنچا چکی ہے۔
سیاسی معاملات پر عدالتی تبصرے قومی مفاد میں نہیں: سینیٹر عرفان صدیقی








