بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

درجہ حرارت کم کرنے کیلئے زمین پر چاند کی دھول چھڑکنے کا آئیڈیا

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے اور ہر گزرتے سال کے ساتھ اس کے اثرات بھی واضح ہوتے جا رہے ہیں، جبکہ مستقبل میں تباہی سے بچنے کے امکانات ہر پگھلتے گلیشیئر کی طرح ضایع ہوتے جا رہے ہیں۔ بدترین حالات سے بچنے کیلئے پریشان سائنسدانوں نے وقتاً فوقتاً مختلف آپشنز پیش کیے ہیں جن کی مدد سے تباہی کی طرف بڑھنے کی ہماری رفتار کم تو ہو سکتی ہے لیکن اسے روکا نہیں جا سکتا۔ امریکا کی یوٹا یونیورسٹی کے کمپیوٹیشنل اور فلکیاتی طبعیات کے ماہر سائنسدان بین بروملی، کمپیوٹر سائنسدان سمیر خان اور سمتھ سونین آسٹرو فزیکل آبزرویٹری کے ماہر اسکاٹ کینون نے مل کر تجویز پیش کی ہے کہ چاند کی دھول کو اڑانے سے زمین کا درجہ حرارت کم کیا جا سکتا ہے۔ سننے کی حد تک یہ خیال بہترین معلوم ہوتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ واقعی ایک اچھا خیال ہے۔ تاہم، زمین کا درجہ حرارت کم کرنے کیلئے پیش کردہ دیگر خیالات کے مقابلے میں یہ آئیڈیا بہت کم خطرناک اور ممکنہ طور پر کم لاگت کا حامل ہے۔ ہماری فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی تاریخی بلند سطح کی بدولت، سورج کی گرمی زمین میں قید ہو جاتی ہے اور اس کے واپس پلٹ کر خلا میں جانے کے امکانات کم ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کرۂ ارض ہر گزرتے دن کے ساتھ گرم ہوتا جا رہا ہے۔ منطقی بات کی جائے تو ہمیں رکازی ایندھن (یعنی روایتی فاسل فیول) کا استعمال کم ترین سطح پر لانے کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا۔ تاہم، ایسا ہوتا نظر نہیں آتا، یہی وجہ ہے کہ سائنسدان مختلف آپشنز پر کام کر رہے ہیں۔ یوٹا یونیورسٹی کے کمپیوٹیشنل اور فلکیاتی طبعیات کے ماہر سائنسدان بین بروملی، کمپیوٹر سائنسدان سمیر خان اور سمتھ سونین آسٹرو فزیکل آبزرویٹری کے ماہر اسکاٹ کینون نے کمپیوٹر سیمولیشنز کی مدد سے چاند کی 10؍ ارب کلوگرام دھول (موُن ڈسٹ) کا بادل بنا کر اس پر خصوصی ریسرچ کی ہے اور ماڈلز بنائے ہیں جن سے حوصلہ افزا نتائج ملے ہیں۔ اس پروجیکٹ کیلئے مخصوص تیاریوں کی ضرورت نہیں ہے۔ تازہ ترین تجویز سے قبل ماہرین نے سلفر کی مقدار کو کرۂ ارض کے بیرونی مدار میں چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا تاہم، اس کے منفی اور تباہ کن اثرات سامنے آنے کا علاج کسی کے پاس نہیں تھا۔ تاہم، بظاہر موُن ڈسٹ زمین پر چھڑکنے سے ہمارا سیارہ کرۂ ارض آلودہ نہیں ہوگا۔ ماہرین نے تحقیق کے دوران مون ڈسٹ کے حوالے سے کشش ثقل کے اثرات، سورج کی روشنی سے پیدا ہونے والی تابکاری کے دبائو، شمسی طوفانوں کے امکانات کا بھی جائزہ لیا۔ مون ڈسٹ کے مقابلے میں مخصوص چٹانوں کا بھی تجزیہ کیا گیا جنہیں ایک طرح سے زمین کے سامنے لا کر باندھنے کا خیال پیش کیا گیا لیکن ان کے نتیجے میں دیکھا گیا کہ یہ سورج کی صرف 2؍ فیصد روشنی کو ہی فلٹر کر پائے۔ تاہم، جب مون ڈسٹ کے بادل کا جائزہ لیا گیا تو یہ بادل بہ وقت ضرورت تیزی سے صاف ہو گیا بلکہ کسی طرح کی ایڈجسٹمٹ کی بھی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ اس دھول کی وجہ سے پیدا ہونے والی دھند کے ختم ہونے کیلئے صرف چند روز انتظار کرنا ہوگا اور پھر صورتحال معمول کے مطابق ہو جائے گی۔تاہم، یہ دیکھنا باقی ہے کہ ایسے منصوبوں پر باقاعدہ غور کرنے کیلئے کتنی تباہی کا انتظار کرنا ہوگا اور آیا کہ ہم نے گزشتہ برسوں کی تباہی سے کچھ سیکھا ہے؟