اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میرے لیڈر نواز شریف، صدر شہباز شریف ہیں، مریم نواز صدارت کی پوزیشن میں آتی ہیں تو پارٹی کے ساتھ چلنے یا نہ چلنے کا فیصلہ کروں گا،مریم نواز پارٹی کی لیڈر ہوں گی، میری نہیں، مجھے پارٹی سے کوئی شکوہ شکایت نہیں، 31 سال بغیر کسی عہدے کے پارٹی کے ساتھ رہا۔سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے انتخابات کرانے ہیں اور اس کے علاوہ کوئی چوائس نہیں ہے۔ الیکشن میں تاخیر ہوئی تو سپریم کورٹ میں چیلنج ہو گا۔ الیکشن کمیشن کی مدد حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے آئین واضح ہے تاہم آئین میں غیرمعمولی حالات میں انتخابات ملتوی کرنے کی گنجائش ہے۔انہوں نے کہا کہ وزارت خزانہ کو پیسے دینا پڑیں گے بیشک قرض لے کر دیں اور اگر گورنر انتخابات کی تاریخ نہ دیں تو الیکشن کمیشن خود تاریخ دے سکتا ہے۔ مسلم لیگ ن لیگ کے لیے الیکشن میں جانا آسان نہیں۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کا بوجھ قبول کیا اور اب الیکشن میں اس کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عوام کے پاس بیانیہ لے کر جائیں گے کہ مشکل فیصلے کیوں کیے۔انہوں نے کہا کہ مریم نواز جب سے پاکستان آئیں ہیں ان سے ملاقات نہیں ہوئی لیکن مسلم لیگ ن سے کوئی دوری نہیں بڑھی جبکہ نواز شریف اور پارٹی سے رابطہ آج بھی قائم ہے۔ مریم نواز کو فری ہینڈ دینے کے لیے ہی عہدے سے پیچھے ہٹا اور میری لیڈر مریم نواز نہیں بلکہ نواز شریف ہیں تاہم مریم نواز پارٹی صدر بنیں تو فیصلہ کروں گا کہ سیاست کرنی ہے یا نہیں،مریم نواز چونکہ نواز شریف کی بیٹی ہیں اس ناطے سے میں ان کا چچا لگتا ہوں۔ مسلم لیگ ن سے اپنے گھر جا سکتا ہوں لیکن کہیں اور نہیں۔
مریم نواز پارٹی کی لیڈر ہوں گی، میری نہیں، شاہد خاقان عباسی کا دوٹوک جواب








