بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

خاتون اول کی دوست فرح خان کون ہیں اور اب کہاں ہیں؟

2018 میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی شادی اور بعد میں تحریک انصاف کی حکومت بننے کے بعد فرح خان کا نام پہلی مرتبہ منظر عام پر آیا تھا۔فرح خان، فرح گجر اور فرحت شہزادی،یہ تمام نام ایک ہی خاتون کے ہیں جن پر گذشتہ چند دنوں میں حزبِ اختلاف کے متعدد رہنماؤں اور تحریک انصاف کے ناراض اراکین کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کے بعد سوشل میڈیا پر کافی بحث اور بات چیت کی جا رہی ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) رپورٹ کے مطابق 2018 میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی شادی اور بعد میں تحریک انصاف کی حکومت بننے کے بعد فرح خان کا نام پہلی مرتبہ منظر عام پر آیا تھا۔ اس کے بعد وہ خاتول اول بشریٰ بی بی کے ہمراہ بیشتر مرتبہ دکھائی دیں۔ فرح اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی اپنی اور بشریٰ بی بی کی تصاویر اکثر لگاتی تھیں۔عمران خان کے دور حکومت میں بھی کئی حلقوں کی جانب سے اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا تھا کہ آخر یہ فرح خان ہیں کون؟اس سوال کے جواب میں اکثر سرگوشیاں کی جاتی تھیں، لیکن دو روز قبل پی ٹی آئی کے ناراض رکن اور سابق صوبائی وزیر علیم خان نے فرح خان کا نام لیتے ہوئے ان پر کافی سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں اور بقول علیم خان عمران خان اس بارے میں سب جانتے تھے۔علیم خان کے اس الزام سے قبل سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور بھی اسی نوعیت کے الزامات عائد کر چکے ہیں جبکہ گذشتہ روز مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز بھی حکومت میں فرح خان کے سرکاری معاملات میں مبینہ مداخلت کی بات کی۔اگرچہ فرح خان نے اس حوالے سے کبھی کوئی وضاحت یا تردید پیش نہیں کی تاہم سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں عثمان بزدار نے کہا کہ ’علیم خان ،چوہدری سرور اور دیگر اپوزیشن ارکان کے من گھڑت الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہوں اور بلا ثبوت الزام تراشی کی مذمت کرتا ہوں۔ پنجاب میں تقرر و تبادلے میرٹ اور قواعد و ضوابط کے مطابق ہوتے ہیں۔‘اگرچہ فرح خان کی جانب سے تو اب تک کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا لیکن یکم اپریل کو وزیر اعظم عمران خان نے ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’اپوزیشن کو میرے خلاف کوئی بات نہیں مل رہی تو وہ میری بیوی کے خلاف باتیں کرتے ہیں اور ان کی دوست فرح کی کردار کشی کی مہم چلا رہے ہیں۔‘اپوزیشن اور پی ٹی آئی ناراض اراکین کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات پر بی بی سی نے فرح خان سے رابطہ کیا اور انھیں سوالات بھی بھیجے، لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔فرح خان کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے اُن کے سسرالی رشتہ دار کا کہنا تھا کہ فرح کی شادی نوے کی دہائی میں احسن گجر سے ہوئی جو پہلے سے ہی شادی شدہ تھے۔احسن جمیل گجر مسلم لیگ نون سے الیکشن لڑنے والے ایم پی اے چوہدری اقبال گجر کے بیٹے ہیں۔فیملی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ’احسن نے فرح کو لاہور ڈی ایچ اے میں گھر لے کر دے رکھا تھا اور اسی گھر میں عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح بھی ہوا تھا۔‘شادی کی جو تصویر تحریک انصاف کی جانب سے جاری کی گئی اس میں جہانگیر ترین گروپ کے رکن عون چوہدری، زلفی بخاری کے علاوہ فرح خان کو بھی دیکھا جا سکتا ہے جو ان کی بشری بی بی سی قربت کو ظاہر کرتا ہے۔پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے نکاح کے موقع پر لی گئی تصویر میں عون چوہدری، زلفی بخاری کے علاوہ فرح خان کو دیکھا جا سکتا ہےفرح خان کے قریبی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے کوبتایا کہ شیخوپورہ کے نزدیک ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والی فرح نے لاہور میں مختلف جگہوں پر نوکریاں کیں اور اسی دوران ان کی احسن جمیل گجر سے ملاقات ہوئی اور بعدازاں انھوں نے نوکری چھوڑ دی۔’پھر ہمیں معلوم ہوا کہ فرح نے احسن گجر سے شادی کر لی ہے۔‘نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک اور خاندانی ذریعے نے بتایا کہ فرح اور بشریٰ بی بی ایک دوسرے کے قریب ’پیری فقیری‘ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ہوئیں اور لاہور کے سوشل سرکل میں بھی میں ان دونوں کو اکثر ایک ساتھ دیکھا جاتا تھا۔اس معاملے پر بشریٰ بی بی کے بیٹے کا بیان بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ہمارے خاندان کا فرح کے کسی معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں۔فرح خان کو زیادہ تر بشریٰ بی بی کے ساتھ ہی دیکھا گیا لیکن ایک تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ فرح کی رسائی بنی گالہ کے کونے کونے تک تھی۔اس پہلو کو فرح خان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بھی دیکھا جا سکتا ہے جہاں وہ اکثر بنی گالہ میں تصاویر اتار کر سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اپ لوڈ کرتی تھی۔اُن کے قریبی ذرائع کا کہنا تھا کہ ’آج بھی آپ جا کر دیکھ لیں تو ان کے گھر کے باہر پولیس کی گاڑیاں کھڑی ہیں۔‘صحافی رئیس انصاری نے حال ہی میں سرگودھا روڈ پر واقع فرح خان کے گاؤں ماچھی کا دورہ کیا تھا۔انھوں نے بی بی سی کوبتایا کہ فرح خان کا تعلق شیخ برادری کے ایک زمیندار گھرانے سے ہے اس لیے یہ کہنا غلط ہو گا کہ اُن کا تعلق کسی نیم متوسط گھرانے سے تھا اور چند ہی مہینوں میں وہ امیر ہو گئیں، جیسا کہ سوشل میڈیا پر دعوے کیے جا رہے ہیں۔