بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

جرمنی اور اٹلی میں ہزاروں افراد کا مظاہرہ، یوکرین کو اسلحہ فراہمی کی مخالفت

کراچی (نیوز ڈیسک) جرمنی اور اٹلی میں ہزاروں افراد نے یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کیخلاف مظاہرہ کیا اور تنازع ختم کرنے کیلئے جنگ کی بجائے امن اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، جرمنی کے شہر برلن میں 50؍ ہزار افراد پر مشتمل مظاہرے کا اعلان لیفٹ پارٹی (دائے لنکے) نے کیا تھا جس کی مشترکہ قیادت سیاست دان ساہرا ویگن نیخت اور مصنف ایلیس شوارزر نے کی۔ مظاہرین کی یہ بھاری تعداد برینڈن برگ گیٹ پر جمع ہوئی اور جرمن حکومت سے مطالبہ کیا کہ یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ ویگن نیخت نے جرمن حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’روس کو برباد‘‘ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، روس کو کوئی ایسی پیشکش کی جائے جس سے وہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ ریلی کے شرکاء کا کہنا تھا کہ مظاہرین یہاں اسلئے جمع ہوئے ہیں کیونکہ وہ جرمنی میں امن کی مضبوط تحریک چلانا چاہتے ہیں۔ ویگن نیخت اور شوارزر نے رواں ماہ مطالبات پر مشتمل ایک پمفلیٹ جاری کیا تھا جس میں جرمن چانسلر اولاف شُلٹز سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ یوکرین کو اسلحہ کی فراہمی اور اشتعال انگیزی بند کی جائے۔ انٹرنیٹ پر جاری کردہ اس پمفلیٹ پر تقریباً 5؍ لاکھ افراد نے دستخط کیے تھے جن میں نامور ادیب، مصنفین اور سیاسی شخصیات شامل ہیں۔ شُلٹز متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ مذاکرات کا امکان نہیں کیونکہ روس مذاکرات کی میز پر آنے کو تیار نہیں، حالانکہ ماسکو کی جانب سے تنازع شروع ہونے کے بعد سے کئی مرتبہ پرامن انداز سے بات چیت کی کوششیں کی گئی ہیں۔ دوسری جانب، اٹلی کے شہر جینوآ اور ملانو (میلان) میں بھی ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا اور کہا کہ حکومت نے یوکرین کو اسلحہ فراہم کرکے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ جینوآ کے منعقدہ مظاہرے میں سوئٹزرلینڈ اور فرانس سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی شرکت کی۔ کلیکٹیو آٹونومس پورٹ ورکرز کی جانب سے منعقدہ مظاہرے میں مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ بندوقیں نیچے اور تنخواہیں اوپر لیجائی جائیں۔ تنظیم کے ترجمان ہوزے نیووئی نے اطالوی حکومت پر الزام عائد کیا کہ یوکرین کو اسلحہ فراہم کرکے 1990ء کے قانون کی 185؍ شق کی خلاف ورزی کی گئی ہے جس میں جنگ زدہ ممالک کو اسلحہ کی برآمد یا درآمد پر پابندی ہے۔ ایک موقع پر مظاہرین مشتعل ہوگئے، کئی دکانوں کی کھڑکیاں توڑ دیں اور جبکہ کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا۔