بہاولپور(وحید احمد ) لاہور ہائیکورٹ بہاول پور بنچ نے تحریک انصاف کے رہنماؤں اعظم خان سواتی اور محمد خان مدنی کو ڈیتھ سیل سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے گرفتاری اور دور افتادہ جیلوں میں منتقل کرنے کاریکارڈ طلب کرلیا۔کیس کی سماعت کیلئے ڈویژن بنچ تشکیل دیدیا گیا۔لاہور ہائیکورٹ بہاولپور بنچ کے سینئر جج جسٹس انوار الحق پنوں نے تحریک انصاف لائر ونگ کے وکلاء ثاقب طارق چوہدری،شیخ مظہر اکبر،سکندرحیات ننگانہ اوررضا حسین لودھی کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔عدالت میں دونوں رہنماؤں کی میڈیکل رپورٹس جمع کروائی گئیں۔اعظم سواتی کے وکیل ثاقب طارق چوہدری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ دونوں سیاسی رہنماؤں کو ڈیتھ سیل میں رکھا جارہاہے اسی طرح قانون کے تحت صرف انڈر ٹرائل ملزمان کو ہی دیگرجیلوں میں منتقل کیا جاسکتا ہے۔سماعت کے دوران عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ کیا یہ 302کے ملزمان ہیں؟ ہتھکڑیاں کیوں لگائی ہیں اورانہیں کس رولز کے تحت دو افتادہ علاقوں کی جیلوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ کیا یہ انڈر ٹرائل ملزمان ہیں اور قانون کا صیح استعمال ہو رہا ہے؟۔ عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو کہا کہ آپ لاء افیسر ہیں آپ ان کو گائیڈ کریں۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ لاہو ر ہائیکورٹ میں اس حوالے سے اعجاز چوہدری کی جانب سے پہلے ہی درخواست دائر کی جا چکی ہے۔عدالت کے سوال پر اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل بہاولپور نے بتایا کہ سیاسی رہنما کو ڈیتھ سیل میں رکھا جارہا ہے جس پر عدالت نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے ڈ یتھ سیل سے نکال کر انکی کلاس کے مطابق رکھنے کا حکم دیا۔اعظم سواتی نے عدالت سے کہا کہ میں سینئر وکیل اور پاکستانی شہری ہوں لیکن مجھے میرے بنیادی آئینی حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے۔عدالت نے کیس کی سماعت کیلئے ڈویژن بنچ تشکیل دیتے ہوئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو اعظم سواتی اور محمد خان مدنی کی گرفتاری اور ان کو بہاولپور اور رحیم یارخان کی جیلوں میں منتقل کرنے کے حوالے سے ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔کیس کی سماعت منگل کو دوبارہ ہوگی۔
لاہور ہائیکورٹ بہاولپور بنچ کا پی ٹی آئی رہنمااعظم خان سواتی سمیت دیگر رہنمائوں کو ڈیتھ سیل سے نکالنے کا حکم، دور افتادہ جیلوں میں منتقل کرنے کاریکارڈ طلب








