بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ماریہ بی خواجہ سرا پر مبنی ڈرامے کے خلاف بیان پر شدید تنقید کی زد میں

کراچی: پاکستان کی معروف فیشن ڈیزائنر ماریہ بی کو خواجہ سرا کی کہانی پر مبنی ڈرامے کے خلاف بیان دینے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا  ہے۔

حال ہی میں  نجی ٹی وی کے ڈرامے سر راہ کی ایک نئی قسط  نشر ہوئی جس میں منیب بٹ کو ایک انٹر سیکس فرد کے طور پر دکھایا گیا ہے اور نبیل ظفر نے ان کے والد کا کردارادا کیا ہے۔

ڈرامے میں نبیل اپنے بیٹے کو بہت حساس ہونے کی وجہ سے اسے زندگی میں آگے بڑھنے اور بُرے حالات میں معاشرے کا مقابلہ کرنے کی تلقین کرتے نظر آرہے ہیں تاہم  ڈرامے کا ایک کلپ سیاق و سباق سے ہٹ کر وائرل ہوا اور  اس کلپ کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ نبیل بچے کو ٹرانس ویلیوز سکھا رہے ہیں۔

گزشتہ روز ماریہ بی  نے اس ڈرامے کی وائرل ویڈیو کلپ پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’ٹرانسجینڈر ایجنڈے‘ پر مبنی ڈرامہ قرار دیا تھا۔

ماریہ بی نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں لکھا تھا کہ اس طرح آپ اپنی روح کو فروخت کر دیتے ہوئے، اگر یہ بچہ انٹرا سیکس ہے تو بجائے شریہ کے مطابق چلنے یا مدد کے زریعے اسے مرد یا پھرعورت بنانے کے یہاں بچے کو خواجہ سرا بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

asdg

جس پر اس ڈرامے کے شائقین نے  بھی ماریہ بی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کھری کھری سُنا ڈالی۔

شائقین نے ماریہ بی پر تنقید کرتے ہوئے انہیں مشورہ دیا کہ وہ پہلے اس ڈرامے کو مکمل دیکھیں اور اس  کا  بنیادی مقصد  سمجھنے کی کوشش کریں اس کے بعد تنقید کریں۔

Maria B Under Severe Criticism For Statement Against Sar e Rah

سوشل میڈیا صارفین نے بھی ماریہ بی کو شدید تنقید کا  نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خواجہ سرا بھی ہماری طرح خدا کی بنائی ہوئی مخلوق ہیں وہ نہ مرد ہیں نہ عورت مگر کیونکہ انسان ہیں اس لئے معاشرے کا حصہ ہیں اور ہمیں انہیں قبول کر کے انہیں عزت دینی چاہیے نہ کہ انہیں  سرجری کروا کر مرد یا عورت بننے کا  مشورہ دینا چاہیے۔

Maria B Under Severe Criticism For Statement Against Sar e Rah

ایک صارف نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے لکھا کہ ماریہ بی جیسے چھوٹے ذہن کے لوگوں کی وجہ سے ہی ہزاروں خواجہ سراؤں کو گھر سے نکال دیا جاتا ہے اور پھر وہ سڑکوں پر بھیک مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

Maria B Under Severe Criticism For Statement Against Sar e Rah