اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) رواں مالی سال کے پہلے 7؍ ماہ (جولائی 2022ء تا جنوری 2023ء) پاکستان کے غیر ملکی قرضے حاصل کرنےکی صلاحیت گزشتہ مالی سال کے اتنے ہی عرصے کے مقابلے میں نمایاں طور پر 50؍فیصد تک گھٹ گئی ہے۔
اس کی بڑی وجہ آئی ایم ایف کے امدادی پروگرام کا التواء میں پڑ جانا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق غیر ملکی قرضوں کی مد میں ڈالرز کی ترسیل 12.02 ارب سے کم ہو کر 6.1 ارب ڈالرز رہ گئی۔
مالی سال کے اول 7؍ ماہ میں ڈالرز کی ترسیل 48.89 فیصد رہ گئی۔ بجٹ میں حکومت نے زرمبادلہ کی شکل میں 22؍ ارب 80؍ کروڑ ڈالرز و صولی کا ہدف مقررکیا تھا۔
اب پاکستانی حکام یہ توقع کررہے ہیں کہ ڈالرز کی ترسیل کو بحران سے بچانے کےلیے پاکستان اور آئی ایم ایف میں اسٹاف کی سطح پرکوئی سمجھوتہ ہوجائے۔ سب سے زیادہ کمی غیر ملکی کمرشل قرضوں میں ہوئی جو مالی سال کے پہلے 7؍ ماہ میں صرف 20؍ کروڑ ڈالرز کے حاصل ہوئے۔
گزشتہ مالی سال کے اول 7؍ ماہ میں یہ حجم دو ارب 62؍ کروڑ ڈالرز تھا جبکہ حکومت کو آئی ایم ایف سے ایک ارب 16؍ کروڑ ڈالرز کا قرضہ ملا ۔نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کے ذریعہ پاکستان نے 46؍ کروڑ 63؍ لاکھ ڈالرز حاصل کئے۔
گزشتہ سال اپریل تک اسٹیٹ بینک کے تحت زرمبادلہ کے ذخائر 10؍ ارب 80؍ کروڑ ڈالرز تھے جب عمران خان کی پی ٹی آئی حکومت تحریک عدم اعتماد کے ذریعہ ختم کی گئی تھی۔









