ممبئی: بھارتی ڈرامہ نگار جاوید اختر کا حالیہ متنازع بیان پر کہنا ہے کہ جب وہ پاکستان سے واپس بھارت پہنچے تو انہیں لگا جیسے وہ تیسری عالمی جنگ جیت گئے ہیں۔
جاوید اختر حال ہی میں ایک کانفرنس میں شریک ہوئے جہاں انہوں نے گزشتہ ماہ لاہور میں منعقدہ ساتویں فیض فیسٹیول میں پاکستان اور اپنے متنازعہ تبصروں پر گفتگو کی۔
اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میزبان، معروف مصنف چیتن بھگت نے جاوید اختر سے سوال کہ یہ دیکھتے ہوئے کہ پاکستان کی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے اور ان کے ذخائر خالی ہیں، کیا آپ نے وہاں بڑھتی ہوئی مہنگائی کا اثر دیکھا؟
جس کے جواب میں اسکرین رائٹر نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں غربت بھارت کے مقابلے میں بظاہر نہیں نظر آتی اور یہ ایک حیران کر دینے والی بات ہے۔
Javed Akhtar says he did not see any slums in Pakistan because poor people are not allowed to come to cities.
As per Javed, there are restrictions on poor people in Pakistan and they can't travel to big cities like Lahore. 🤡 pic.twitter.com/lmM6H1Zvd5
— OSINT Insider (@OSINT_Insider) March 1, 2023
ان کا کہنا تھا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں غربت بالکل ہمارے سامنے ہے، اور ارب پتیوں کے بالکل قریب واقع ہے۔ آپ یقینی طور پر انہیں ممبئی کی طرح سڑکوں پر نہیں دیکھتے۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ پاکستان میں کچھ پابندیاں ان کے غربت زدہ لوگوں کو دور رکھتی ہیں، جہاں صرف ضرورت مند ہی ہوتے ہیں۔‘
جاوید اختر نے کہا کہ وہ تین مرتبہ پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں مگر انہوں نے پاکستان کے شہر لاہور کی سڑکوں پر بےگھر لوگ اور بھیک مانگنے والے نہیں دیکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ انہوں نے ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک نظام تیار کیا ہے کیونکہ یہ ظاہر ہے کہ ان کے پاس غریب لوگ ہیں۔‘
Sitting in Lahore, RSS apologist Javed Akhtar accuses Pakistan of harbouring terrorists.
What is next ? May be invite RSS chief Mohan Bhagwat to give us a lecture on secularism. Lahori elite is disgusting. pic.twitter.com/W3qalcDpkG
— OSINT Insider (@OSINT_Insider) February 21, 2023
لاہور میں منعقد ساتویں فیض فیسٹیول میں اپنے متنازع بیان پر ردعمل دیتے ہوئے جاوید اختر نے کہا کہ’ یہ ایک بہت بڑا سودا بن گیا، یہ میرے لیے تقریباً شرمناک تھا۔ جب میں پاکستان سے ہندوستان واپس آیا تو مجھے ایسا لگا جیسے میں تیسری عالمی جنگ جیت گیا ہوں۔۔ میرا مطلب ہے کہ میں نے جو کچھ کہا اس میں کیا غلط تھا؟ مجھ سے کم از کم اتنا ہی کہنے کی توقع تھی۔
جاوید اختر نے یہ بھی کہا کہ ملک کے اقدامات پر تمام پاکستانیوں کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیےپاکستان میں لوگوں کا ایک بہت بڑا طبقہ ہے جو بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا چاہتا ہے اور یہ بات قابل فہم ہے۔
یاد رہے کہ بھارتی رائٹر جاوید اختر نے لاہور کے فیض فیسٹیول میں گفتگو کے دوران پاکستان کو ممبئی حملوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا تھا کہ ممبئی پر حملہ کرنے والے پاکستان میں آزاد گھوم رہے ہیں جس پر قوم کی جانب سے شدید غم وغصے کا اظہار کیا گیا تھا۔









