بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ساری قوتیں میرے خلاف اکھٹی ہو چکی ،کسی صورت عالمی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دوں گا،وزیراعظم

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ میں کسی صورت عالمی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دوں گا، ساری قوتیں میرے خلاف اکھٹی ہو چکی ہیں جن کے خلاف میں تنہا لگ رہا ہوں نہ تو اپنی گرفتاری اور نہ ہی موت سے ڈرتا ہوں استعفیٰ دینا اور عدم اعتماد کو تسلیم کرنا اپنی حکومت کی تبدیلی کی عالمی سازش کو تبدیل کرنے کے مترادف ہوگا ۔ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سمیت فوج میں اعلیٰ سطحی تبدیلیوں کے بارے میں پھیلائی جانے والی افواہیں بے بنیاد ہیں اس میں کوئی حقیقت نہیں ۔سپریم کورٹ بیٹھے گی تو ہم بھی اپنا موقف پیش کریں گے وہ ہفتے کی رات وزیراعظم ہائوس میں سینئر صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نہیں چاہتی کہ یہ سازش کھلے اس لئے ہم نے اس سے دھمکی آمیز خط کو محدود پیمانے پر سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے انہوںنے کہا کہ بلاول ،شہباز شریف سمیت اس سازشی ٹولے کی ساری ملاقاتوںکی تفصیلات ہمارے پاس موجود ہیں ۔انہوں نے کہا کہ چونکہ ہمیں اس بات کا خدشہ ہے کہ آنے والی حکومت اس لیٹر کو ڈس کریڈٹ نہ کردے اس لئے ہم محدود پیمانے پر اسے سامنے لا رہے ہیں عمران خان نے کہا کہ میں نے قومی سلامتی کے ایشوز پر حلف اٹھایا ہواہے میں اپنے حلف سے وفادار ہوں نہ اپنی قوم نہ اپنے حلف سے غداری کروں گا ۔ڈپٹی سپیکر کی رولنگ ہدایت کے مطابق تھی اس بات کا مجھے افسوس ہے کہ سپریم کورٹ کو اس کا پس منظر دیکھنا چاہئے تھا انہوں نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد شر وع کر چکے ہیں ایوان میں بحث جاری ہے اس میں کوئی رکاوٹ نہیں آئین اور قانون کے مطابق کارروائی چلانے میں سپیکر بااختیار ہے ۔عمران خان نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ساری قوتیں ان کے خلاف اکھٹی ہو چکی ہے اور وہ اس وقت بالکل تنہا ہیں زیادہ سے زیادہ کیا ہو سکتا ہے کہ یہ میری جان لے لیں یا مجھے گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا جائے میں جیل جانے کے لئے تیار ہوں لیکن کسی صورت اس سازش پر کوئی سمجھوتہ نہیں کروں گا اگر ایسا کیا میں خود کو کبھی معاف کر سکوں گا اور یہ ملک اور قوم سے غداری ہوگی وزیراعظم نے استعفیٰ یا تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانے کے سوال پر واضح طور پر کہا کہ اگر میں استعفیٰ دے دوں تو یہ اپنی حکومت کو تبدیل کرنے کی سازش کو تسلیم کرنے کے مترادف ہوگا اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس عالمی سازش کے قضیے کو حل کیے بغیر اپوزیشن میں جانے کا مطلب سازش کے آگے شکست تسلیم کرنا ہوگا نہ تو میں نے پہلے شکست تسلیم کی نہ اب کروں گا ہم آئین اور قانون کے مطابق اپنا کام کرتے رہیں گے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سمیت فوج میں اعلیٰ سطحی تبدیلیوں کے بارے میں پھیلائی جانے والی افواہوں پر وزیراعظم نے کہا جب بھی ہم کوئی اہم کام کرنے لگتے ہیں تو ایسی افواہیں پھیلائی جاتی ہیں نہ تو کوئی تبدیلی ہو رہی ہے نہ ہی ہمارا ایسا کوئی ارادہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ایسی مہم چلا کر ملک میں غیر یقینی پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے وزیراعظم نے رات 12 بجے سپریم کورٹ کے بیٹھنے کے بارے میں سوال پر کہا کہ اگر ایسا ہے تو ہم بھی ڈی کلاسیفائیڈ کیا جانے والا یہ لیٹر کھلی عدالت میں پیش کریں گے اور سپریم کورٹ کے فیصلہ پر نظر ثانی کی درخواست بھی فوری طور پر عدالت میں پیش کی جائے گی۔