بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

احسن اقبال نے یونیورسٹیوں کو مستقبل میں عملدرآمدکیلئے 7نکاتی اصلاحات، آڈٹ و کارکردگی منصوبے کا خاکہ پیش کردیا

اسلام آباد(ممتازنیوز) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے مشاہدے، تحقیق،غوروفکر اور تنقیدی سوچ پر مبنی بنیادی ورثے کو ترک کرنے کو اسلامی دنیا میں پسماندگی کی جڑ قراردیتے ہوئے پاکستان کی یونیورسٹیوں کو مستقبل میں عملدرآمدکیلئے سات نکاتی اصلاحات، آڈٹ اور کارکردگی کے منصوبے کا خاکہ پیش کردیا۔ اسلامی دنیا کی جامعات کا پانچواں وائس چانسلرز فورم پیر کو اسلام آباد میں اختتام پذیر ہوا۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے اختتامی تقریب کی صدارت کی۔او آئی سی کے 20 مختلف ممالک کے 40 سمیت 200 سے زائد وائس چانسلرز نے وی سی فورم میں شرکت کی جس کا انعقاد ہائر ایجوکیشن کمیشن ، کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد، اسلامک ورلڈ ایجوکیشنل، سائنٹیفک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن ، وزارت فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ اور برٹش کونسل، پاکستان۔نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ مقامات،جو عالمی سطح پرعلم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا محور ہیں ان کیساتھ اپنے تعلیمی اداروں کو نئے سرے سے ہم آہنگ کیا جائے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ عالم اسلام نے اپنے بنیادی ورثے کو چھوڑ دیا ہے جو مشاہدے تحقیق،غوروفکر اور تنقیدی سوچ پر مبنی ہے،اس سلسلے میں مزید انہوں نے کہا کہ یہ اسلامی دنیا میں پسماندگی کی جڑ ہے۔انہوں نے ایک سات نکاتی اصلاحات، آڈٹ اور کارکردگی کے منصوبے کا ایک خاکہ بھی پیش کیا جس پر پاکستان کی یونیورسٹیوں کو مستقبل میں عمل کرنا ہوگا۔ یہ علم کی فراہمی، تحقیق اور جدت، مضبوط اکیڈمی انڈسٹری کے روابط، کمیونٹی سروس اور معاشرے میں شراکت، ٹیکنالوجی کی اہلیت، کارپوریٹ گورننس، اور سب سے بڑھ کر معاشرے میں گریجویٹس کے اثرات پر مشتمل ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس فریم ورک کے نتیجے میں یونیورسٹیوں کی ایک پریمیئر لیگ تشکیل دی جائے گی جو انہیں دنیا کی 100 بہترین یونیورسٹیوں میں آگے بڑھنے کے لیے تیار کرے گی۔..پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر اینڈریو ڈالگیش نے کہا کہ برطانیہ پاکستان کے ساتھ تعلیمی اور ثقافتی تعلقات کے حوالے سے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ برٹش کونسل اور ایچ ای سی کے درمیان ایک اہم شراکت داری کے نتیجے میں اہل پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے مقامی ہنر کی مارکیٹ میں شمولیت اختیار کی ہے۔ پاک یو کے ایجوکیشن گیٹ وے ان کلیدی منصوبوں میں سے ایک ہے جو عالمی شراکت داری پروگرام کا حصہ ہے۔
چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد نے کہا کہ وی سی فورم کے نتیجے میں اسلامی ممالک کے اعلیٰ تعلیمی برادری کے درمیان بامعنی وبامقصدگفتگو ہوئی ہے۔ انہوں نے تمام مقامی اور بین الاقوامی شرکاء کواپنی قیمتی آراء کے اظہار پر شکریہ بھی ادا کیا ہے اور اس کے ساتھ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی جانب سے ہائر ایجوکیشن کے شعبے میں تیزی سے ہونے والی پیش رفت سے ہم آہنگ ہونے کے لیے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔تقریب کے دوران وفاقی وزیر نے چیئرمین ایچ ای سی کی جانب سے تجویز کردہ ’علم بینک‘ کے نام سے موسوم ایک پلیٹ فارم کا بھی باقاعدہ افتتاح کیا گیا۔بینک ایک ورچوئل بینک ہے اسے او آئی سی کے ممبر ممالک میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کا علمی کنسورشیم بنانے کی توقع کی جاتی ہے۔ یہ ایک مرکزی پلیٹ فارم کے ذریعے سرحد پار تعلیم، تربیت اور تحقیق کے مواقع تک رسائی کے قابل بنائے گا۔اس سلسلے میں یہاں مزید یہ بتایا گیا کہ ICESCO اور ورلڈ کانگریس آف مسلم فلانتھروپسٹس مل کر کام کریں گے تاکہ علم بینک کے ٹرمز آف ریفرنس کو عملی شکل دی جا سکے۔ ڈاکٹر مختار احمد نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور خصوصی اقدامات سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کو علم بینک کے قیام میں قائدانہ کردار دینے کے لیے وسائل مختص کریں۔مزید یہ کہا کہ مخیر حضرات /ایجنسیوں جیسا کہ اسلامی ترقیاتی بینک اور دیگر ترقیاتی فنڈز کو اس سلسسلے میں متحرک کیا جائے گا کہ یہ او آئی سی ممالک میں اعلیٰ تعلیم کو فروغ دینے کے اس مقصد عظیم کے لیے تعاون کریں۔پروفیسر ڈاکٹر محمد ٹی افضل، ریکٹر، کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد نے کانفرنس کی سفارشات پیش کیں۔ان میں نمایاں طورپر مشترکہ نکتہ نظرکی ضرورت،ڈگریوں پر مہارت کو ترجیح،نئی ٹیکنالوجیز اور طریقہ کارکو اپنانا، تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان پل کا کردار داد ا کرنا، مصنوعی ذہانت (AI) کے فوائد اور خطرات کے حوالے سے فہم پیدا کرنا، صنفی مساوات کو فروغ دینا اور سہولیات اور انفراسٹرکچر کی ترقی ہے۔. شرکاء نے متفقہ طور پر عالم اسلام کی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قومی جی ڈی پی کا 1% اعلیٰ تعلیم کے لیے مختص کریں تاکہ صنعت 4.0 کے چیلنجز کے تناظر میں امت مسلمہ کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔ یہ بھی سفارش کی گئی کہ اسلامی دنیا کی یونیورسٹیاں اعلیٰ تعلیم میں خواتین کی آزادی کے لیے اقدامات کریں اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کو اپنے پروگراموں، عمل اور نظام میں شامل کریں۔تقریب کا اختتام قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں ICESCO چیئر فار بگ ڈیٹا اینالیسس اینڈ ایج کمپیوٹنگ کے افتتاح پر ہوا۔ ڈاکٹر المالک، ڈائریکٹر جنرل ICESCO نے چیئرمین ایچ ای سی اور وزیربرائے منصوبہ بندی وخصوصی اقدامات اور ریکٹر کامسیٹس یونیورسٹی،اسلام آبادکی موجودگی میں چیئر کے قیام کا باقاعدہ معاہدہ،قائد اعظم یونیورسٹی،اسلام آبادکے وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر نیاز اخترکے حوالے کیا گیا۔