بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

آڈیو لیک، مریم نواز کے بارے میں غلیظ زبان کا استعمال افسوسناک، تجزیاتی رپورٹ

اسلام آباد(طارق محمود سمیر)سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور پنجاب کے سابق گورنر اورسینئر وکیل خواجہ طارق رحیم کی مبینہ آڈیو وائرل جس میں دونوں
شخصیات کی مسلم لیگ(ن) کی چیف آرگنائزر اور سینئر نائب صدر مریم نواز کے بارے پنجابی زبان میں انتہائی قابل اعتراض اور غلیظ زبان کا استعمال سیاسی ، قانونی اور صحافتی حلقوں کا اہم آئینی عہدوں پر تعینات رہنے والی دونوں شخصیات کا ایک خاتون کے بارے میں انتہائی نازیبا الفاظ کے استعمال پر سخت حیرت اور افسوس کا اظہار،خواجہ طارق رحیم جنہیں (KTR) کے نام سے خود کو پکارا جانا بہت پسند ہے ۔خواجہ طارق رحیم جو قیام پاکستان سے قبل لاہور سے تعلق رکھنے والے سینئرقانون دان اور تحریک پاکستان کے رہنما بیرسٹر خواجہ عبدالرحیم کے صاحبزادے اور شاعر مشرق علامہ اقبال کے قریبی رشتہ داروں میں سے ہیں ۔ اس لئے بھی ان سے ایسی بات کی توقع نہیں کی جاتی تھی۔ ذاتی طور پر بھی میرا گزشتہ پندرہ بیس سال سے خواجہ طارق رحیم سے رابطہ رہاہے ،بہت سے مشترکہ دوستوں کے ذریعے بھی ان سے ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں بالخصوص سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی مرحوم اوران کے پولیٹکل سیکرٹری سید یحییٰ منور مرحوم کی رہائش گاہوں پر (KTR) سے تو کئی ملاقاتیں ہوئیں۔تاہم مجھے اس وقت کے سابق وزیر دفاع رائو سکندر اقبال مرحوم کی طرف سے سنایا جانے والا ایک واقعہ بھی یاد آرہا ہے جن دنوں سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی مرحوم کو عہدے سے ہٹائے جانے کی افواہیں چل رہی تھیں تو خواجہ طارق رحیم وزیراعظم ہائوس میں سابق وزیراعظم سے ملاقات کے لئے گئے اور انہوں نے پنجابی میں سابق صدر (ر) جنرل پرویز مشرف مرحوم کے بارے میں غلط زبان استعمال کی اور پنجابی میں انہیں گالیاں بھی دیں جس کی ریکارڈنگ ہو گئی اور یہ آڈیو ریکارڈنگ سابق جنرل پرویز مشرف کو سنائی گئی تو انہیں (KTR)پر بہت غصہ آیا اور (KTR) کی فوری طور پر فائل منگوائی گئی ۔جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف مرحوم نے سابق وزیر دفاع رائو سکندر اقبال اور دیگر سینئر وزراء کو بلایا اور ان سے شکوہ کیا کہ وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی کے قریبی دوست خواجہ طارق رحیم نے میرے بارے میں جو زبان استعمال کی ہے وہ نامناسب ہے ، آپ میرا پیغام پہنچا دیں کہ (KTR)آئندہ وزیراعظم ہائوس نظر نہ آئے ۔ سکندراقبال مرحوم نے مجھے بھی کہا کہ یہ ساری بات میں نے آپ کو آف دی ریکارڈ بتائی ہے اور آپ نے اس کی فی الحال خبر جاری نہیں کرنی تاہم آپ کا بھی میر ظفر اللہ خان جمالی سے رابطہ ہے انہیں میرا پیغام پہنچائیں کہ (KTR) سے خود کو دور کر لیں کیوں اپنے لئے مسائل بڑھا رہے ہیں ۔(KTR)کے بارے میں میں نے ایک واقعہ سنا دیا ہے اگر وہ اس کی تردید کریں گے تو ان کی مرضی اس کے بعد میں مزید چیزیں بھی سامنے لے آئوں گا کہ انہوں نے بے نظیر بھٹو شہید سے کیسے بے وفائی کی تھی اور کس کے کہنے پر کی تھی وہ تفصیلات بھی میرے سینے میں دفن ہیں ۔خواجہ طارق رحیم کا مسلم لیگ (ن) کے قائد میاںنوازشریف سے ہمیشہ اچھا تعلق رہا ہے ، چند سال قبل جب خواجہ طارق رحیم کا ایک جوان بیٹا فوت ہوا تھا تو میاں نوازشریف خود تعزیت کے لئے ان کی رہائش گاہ پر گئے تھے ۔ خواجہ طارق رحیم کو مریم نواز کے بارے میں ایسی زبان استعمال کرنے سے قبل یہ تو سوچ لینا چاہئے تھا کہ ان کے بیٹے کی وفات پر نوازشریف خود افسوس کرنے ان کے گھر آئے تھے ۔ ویسے جوالفاظ خواجہ طارق رحیم نے استعمال کئے اور ثاقب نثار پر زور دیا کہ آپ ایسا کریں ، قانونی ماہرین کے مطابق اس پر مریم نواز جب چاہئیں قانونی کارروائی کر سکتی ہیں ۔ ایف آئی اے اور دیگر ادارے دونوں شخصیات کو ایک سیاسی خاتون رہنما کو دھمکانے اور بد زبانی کرنے پر مقدمہ درج کر سکتے ہیں۔ یہاں تک ثاقب نثار کا تعلق ہے انہیں بھی شرم آنی چاہئے تھی کہ ایک ایسے شخص کی بیٹی کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں جو کسی زمانے میں ان کامحسن تھا ، اگر نوازشریف ثاقب نثار کو سیکرٹری قانون اور لاہور ہائی کورٹ کا جج نہ بناتے تو وہ کبھی چیف جسٹس بن سکتے تھے وہ تو مسلم لیگ (ن) کے اسلام آباد کے دفتر میں مشاہد حسین اور صدیق الفاروق کے آگے پیچھے پھرا کرتے تھے ، اگر انہیں مریم نواز کی تقریروں سے کوئی مسئلہ ہے تو اس کا جوا ب اخلاق کے دائرہ میں راہ کر ضرور دیں اور جواب دینا ان کا حق بنتا ہے ۔ (KTR)جتنا بڑا دھماکہ کر سکتے ہیں وہ سب دوست جانتے ہیں کہ (KTR) کے ماضی میں جس اہم جگہ پر ان کے رابطے ہوتے تھے اور جس کے ذریعے ہوتے تھے وہ شخص اب اس دنیا میں زندہ نہیں رہا ،(KTR) اپنی وکالت ضرور کریں اخلاق کے دائرے سے باہر نہ جائیں ۔ دوسری طرف لندن میں تحریک انصاف کے حامیوں نے سابق فوجی آمروں کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور اس مظاہرے میں انہوں چار فوجی آمروں جنرل ایوب خان ، جنرل یحییٰ خان ، جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں جن پر ایک شخص باری باری جوتے مار رہا تھالیکن گزشتہ روز ہی ضیاء الحق کے صاحبزادے اعجاز الحق نے اپنے والد کے نام پر بنائی ہوئی پارٹی مسلم لیگ ضیاء کو تحریک انصاف میں ضم کر دیا ہے ۔انہیں یہ ویڈیوز دیکھ کر افسوس ہوا یا نہیں کہ جس پارٹی میں وہ شامل ہوئے اس پارٹی کے کارکن اس کے والد کی تصویر پر جوتے مار رہے ہیں ، یہ وہی ضیاء الحق ہیں جنہیں مجاہد افغانستان اور مرد مجاہد بھی قرار دیا جاتا ہے اور عمران خان جب کرکٹر تھے تو ضیاء الحق کے ساتھ بڑے شوق سے تصاویر بنوایا کرتے تھے اب ان کے کارکن ضیاء الحق کی تصاویر پر جوتے ماررہے ہیں ، دوسری طرف دیکھا جائے تو جنرل ا یوب خان کے پوتے عمر ایوب خان بھی تحریک انصاف میں ہیں اور ان کے دادا کی تصاویر پر جوتے مارے گئے ہیں ان کا کیا ردعمل ہو گا ، دونوں کو اس بارے میں اپنے قائد عمران خان سے بات ضرور کرنی چاہئے ۔ ویسے مسلم لیگ (ن) اور مولانا فضل الرحمن عمران خان پرجب طنز کرتے ہیں توانہیں جنرل شجاع پاشا ، جنرل ظہیر السلام ، جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل فیض حمید کی پیداوار قرار دیتے ہیں اور جب جنرل باجوہ آرمی چیف کے عہدے پر تھے تو مولانا فضل الرحمن عمران خان پر طنز کرتے ہوئے جنرل باجوہ کا نام لئے بغیر یہ کہتے تھے کہ عمران کو نکا (یعنی چھوٹا)دہ ابا (باجوہ)کے فقرے کسا کرتے تھے ۔ویسے ایک زمانے میں مسلم لیگ (ن)کے قائد میاں نوازشریف جنہیں ضیاء الحق کے دور میں سیاست میں آنے کا موقع ملا اور انہوں نے بعد ازاں اپنا سیاسی مقام بنا لیا ، اسی طرح عمران خان جو کئی فوجی جرنلوں کی سپورٹ سے آگے بڑھے اور اقتدار تک پہنچے اور گزشتہ سال اقتدار سے محرومی کے بعد اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ بنایا جس کی وجہ سے عوام میں انہیں مقبولیت ملی اور اب وہ اداروں کے کنٹرول سے باہر جاچکے ہیں ۔