بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

شہباز شریف پاکستان کے 23ویں وزیر اعظم منتخب ،خط میں سازش کا شبہ ہواتو استعفیٰ دے دوں گا،نومنتخب وزیراعظم

 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ ن کے صدرمیاں شہباز شریف پاکستان کے 23ویں وزیر اعظم منتخب ہوگئے، نومنتخب وزیراعظم نے اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں کہاکہ  بیرونی سازش سے متعلق مبینہ  پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی میں خط پیش کیا جائے ، سازش کا شبہ ہواتو وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے دوں گا،  تاریخ میں پہلی مرتبہ ایساہواہے کہ جھولو کے پیداوار وزیر اعظم کو آئینی اور قانونی طریقے سے گھر بھیجا۔پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شہباز شریف پاکستان کے 23ویں وزیر اعظم منتخب ہوئے،انہوں نے 174 ووٹ حاصل کیے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق نئے منتخب وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف آج عہدے کا حلف اٹھائیں گے، حلف برداری کی تقریب رات 8 بجے ایوان صدر میں ہوگی۔  وزیراعظم پاکستان منتخب ہونے کےبعد قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اس موقع پر اللہ تعالیٰ کا جنتا شکر کروں کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی عوام کی دعاؤں سے آج وزیر اعظم منتخب ہوا، یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی، حق کو فتح حاسل ہوئی، باطل کو شکست ہوئی، تمام ساتھیوں کی کاوشوں سے اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بچا لیا ہے،یہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ پاکستان میں کسی وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی اور باطل کو شکست اور حق کی فتح ہوئی، آج کا دن پوری قوم کے لیے عظیم دن ہے کہ ایوان نے سلیکٹڈ اور جھرلو کی پیدوار وزیراعظم کو گھر کا راستہ دکھایا۔ عوام کے لیے خوشی کی بات کی اور کیا مثال ہوگی کہ آج ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 8 روپے اونچا گیا، 190 سے واپس 182 پر واپس آگیا ہے، کہا جاتا تھا کہ ڈالر ایک روپیہ اوپر جائے تو وزیراعظم کرپٹ ہوتا ہے، یہ 8 روپے نیچے گیا ہے تو اب کیا کہا جائےگا، یہ عوام اور ایوان کے بھرپور اعتماد کا اظہار ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں سپریم کورٹ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے آئین شکنی کو کالعدم قرارد یتے ہوئے نظریہ ضرورت کو دفن کردیا۔کئی دنوں سے جھوٹ بولا جارہا تھا اور ڈرامہ کیا جارہا تھا کہ کوئی خط آیا ہے، مجھے ابھی تک خط نہیں دکھایا گیا نہ میں نے خط دیکھا، اس حوالے سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام اور ایوان کے ارکان جاننا چاہتے ہیں کہ اس خط کی حقیقت کیا ہے، عدم اعتماد کے حوالے سے ہم کئی دن پہلے فیصلہ کرچکے تھے، اگر یہ جھوٹ ہے تو سب کے سامنے آنا چاہیے تاکہ یہ بحث ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے، میں بطور منتخب وزیراعظم کے کہتا ہوں کہ پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی میں خط پیش کیا جائے جس میں مسلح افواج کے سربراہان بھی موجود ہوں، جس میں ڈی جی آئی ایس آئی، سیکرٹری خارجہ اور وہ سفیر بھی ہوں، میں بلا خوف تردید کہتا ہوں کہ اگر اس حوالے سے رتی برابر ثبوت مل جائے کہ ہم کسی بیرونی سازش کا شکار ہوئے یا ہمیں کسی بیرونی وسائل سے مدد ملی تو میں ایک سیکنڈ میں وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے کر گھر چلا جاؤں گا، میں پہلی فرصت میں اِن کمیرا سیشن کا انتظام کروا کر خط پر بریفنگ کرواتا ہوں۔
نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں نے گزشتہ حکومت کو میثاق معیشت کی پیش کش کی تھی، میری میثاق معیشت کی پیشکش کا دو مرتبہ حشر نشرکیا گیا، یہ زعم اور تکبر میں نہ ہوتے تو وہ پیشکش قبول کرتے، آج ملک آگے جارہا ہوتا، پاکستان رواں مالی سال سب سے بڑا بجٹ خسارہ کرنے جارہا ہے،کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ ہونے جارہا ہے ، 60 لاکھ لوگ بیروزگار اور 2 کروڑ سے زائد خط غربت سے نیچے جاچکے، انھوں نے کھربوں کے قرض لیے ایک اینٹ تک نہیں لگائی ۔  انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کی معشیت کو پروان چڑھانا ہے، جمہوریت اور ترقی کو آگے بڑھانا ہے تو ڈیڈ لاک نہیں ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، تقسیم نہیں، تفہیم سے کام لینا ہوگا، نہ کوئی غدار تھا ہے نہ کوئی غدار ہے، ہمیں احترام کے ساتھ قوم بننا ہوگا۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ تبدیلی باتوں سے نہیں آتی، اگر باتوں سے تبدیلی آنی ہوتی تو پاکستان کی معشیت کا اتنا برا حال نہیں ہوتا، ملک کی معشیت انتہائی گھمبیر صورتحال سے دوچار ہے، باتوں سے تبدیلی آنی ہوتی تو ہم ایک ترقی یافتہ قوم بن چکے ہوتے۔
اس سے قبل نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی سے تحریک انصاف کے اجتماعی استعفوں کا اعلان کردیا تھا، پی ٹی آئی ارکان قومی اسمبلی کے مستعفی ہونے اور اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کے ساتھ شہباز شریف وزیراعظم کے واحد امیدوار تھے۔قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ملک میں بیرونی سازش ہو رہی ہے جس کا اعتراف پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کر رہی ہے، اس کو سامنے رکھتے ہوئے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آج اس عمل کا حصہ بننا ، اس عمل میں شامل ہونا ایک ناجائز حکومت کو قانونی حیثیت دینے کے مترادف ہوگا اور ہم اس گناہ میں شامل نہیں ہونا چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں وزیراعظم کے لیے پی ٹی آئی کا امیدوار تھا، میں اس انتخابی عمل کے بائیکاٹ کا اعلان کرتا ہوں، ہم ایوان کی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی کے ایوان سے اجتماعی استعفوں کے اعلان کے ساتھ پی ٹی آئی کے تمام اراکین قومی اسمبلی سیشن کا بائیکاٹ کرکے ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔پی ٹی آئی کے وزیراعظم کے لیے نامزد امیدوار شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مجھے وزیراعظم کا امیدوار نامزد کرنے پر میں عمران خان اور پی ٹی آئی کی پوری قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی باقی جماعتوں کی نسبت ایک نئی جماعت ہے لیکن ہم نے پاکستان کی سیاست میں اہم کردار ادا کیا ہے۔