لاہور(ممتازنیوز ) پاکستان بار کونسل کے رکن چوہدری حفیظ الرحمٰن نے ساتھیوں سمیت پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کردیا،پاکستان تحریک انصاف کےمرکزی میڈیاسیل کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اتوار کوچیئرمین تحریک انصاف عمران خان سےچوہدری حفیظ الرحمٰن نے زمان پارک میں خصوصی ملاقات کی ،اراکین پنجاب بار کونسل اویس قاضی، اقبال موہل، سابق رکن پنجاب بار کونسل میاں فیض اللہ، سابق صدر لاہور بار سید محمد شاہ اور نائب صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ارشد باجوہ ،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو رکن عارف محمود چودھری لاہور بار کے نائب صدور میاں عصمت اللہ اور محمد حیات سندھو ،چودھری حفیظ الرحمٰن کے ہمراہ عارف اعوان، طاہر امین چودھری، زاہد نواز چیمہ، نورالمصطفیٰ، مبین عارف چودھری، حسیب عارف چودھری اور فصیح الرحمٰن چودھری پر مشتمل سپریم کورٹ کے وکلاء کا وفد بھی تحریک انصاف میں شامل ہوگیا،وکلاء وفد نے ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی و خود مختاری اور جمہوریت کے تحفظ و استحکام کے حوالے سے چیئرمین تحریک انصاف کے مؤقف کی مکمل تائید کا اعلان کرتے ہوئےحکمران اتحاد کی جانب سے پہلے عدلیہ پر حملوں اور پھر دستور سے علی الاعلان انحراف کی شدید مذمت کی اوردستور کے آرٹیکل 224 کے تحت پنجاب و پختونخوا میں 90 روز میں انتخاب کے انعقاد کا آئینی تقاضا پورا کرنے کا مطالبہ کیا،وکلاء وفد نے سپریم کورٹ کی جانب سے آئین کے مذکورہ آرٹیکل کی تشریح کی بھی مکمل توثیق کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ دستور اور عدلیہ کیخلاف سازشیں، کھلے حملے کرنیوالوں کو ملک میں لاقانونیت کے فروغ کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے،عدلیہ کی بازو مروڑنے کی کوششیں ترک نہ کیں تو دستور و عدلیہ کے دفاع کیلئے 2007 سے بڑی تحریک برپا کریں گے،آئین پر حملہ کرنے والوں کا علاج آرٹیکل 6 کی صورت میں خود آئین تجویز کرتا ہے،معزز سپریم کورٹ دستور کی حفاظت کا آئینی فریضہ بلاخوف سرانجام دے، دھونس اور سازش پر آمادہ گروہ سے وکلاء اور قوم نمٹ لیں گے، پاکستان میں قانون کی حکمرانی، جمہوریت کے استحکام و فروغ اور دستور کی بالادستی کے چیئرمین تحریک انصاف کے ایجنڈے کی مکمل تائید کرتے ہیں، چیئرمین تحریک انصاف نے چودھری حفیظ الرحمٰن کی ساتھیوں سمیت تحریک انصاف میں شمولیت کا خیرمقدم کیا۔
پاکستان بار کونسل کے رکن چوہدری حفیظ الرحمٰن کا ساتھیوں سمیت پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان








