فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں نے یورپی یونین سے ایک آزاد خارجہ پالیسی برقرار رکھنے کے اپنے مطالبات کا اعادہ کیا اور کہا کہ اسے امریکہ کی پیروی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
ایک انٹرویو میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں نے کہا کہ ہم ایک بلاک کے مقابلے میں دوسرا بلاک کھڑا کرنے کی منطق میں نہیں پڑنا چاہتے۔ دنیا کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور ایسے بحرانوں میں نہیں پھنسنا چاہیے جو ہمارے نہیں ہیں۔
یاد رہے کہ ایمانوئل میکروں کا بیان یورپی یونین کے دیگر عہدیداروں کے ساتھ ان کے دورہ چین کے بعد سامنے آیا ہے۔ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ سے بھی ملاقات کی تھی۔ دورہ بیجنگ کے دوران دیگر امور کے ساتھ ہی تائیوان کے ارد گرد کشیدگی اور یوکرین پر روسی حملے پر بھی تبادلہ خیال ہوا تھا۔
ایمانوئل میکروں کا کہنا تھا کہ تائیوان کے مسئلے پر کشیدگی میں اضافہ یورپی یونین کے مفاد میں نہیں ہے۔ فرانس کے صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ یورپی یونین کو اپنی اسٹریٹیجک خود مختاری تیار کرنے کی ضرورت کو سمجھتے ہیں۔ یہ اصطلاح یورپی یونین میں ایک آزاد خارجہ پالیسی برقرار رکھنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یورپ نے طویل عرصے سے اس اسٹریٹیجک خود مختاری کو نہیں وضع کیا لیکن اس حوالے سے اب نظریاتی جنگ جیتی جا چکی ہے۔ 5 برس قبل تک اسٹریٹیجک خود مختاری محض ایک خواب تھا۔ اب ہر کوئی اس کے بارے میں بات کر رہا ہے۔
یورپی یونین تائیوان پر امریکا یا چین کی پیروی نہ کرے، فرانسیسی صدر








