بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پٹرول کی قیمت بڑھے گی یا نہیں؟ مفتاح اسماعیل نے بتادیا

اسلام آباد(آئی این پی )مسلم لیگ ن کے رہنمامفتاح اسماعیل نے کہاہے کہ شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کا معاشی مستقبل روشن ہے،خراب معاشی حالات کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جائیں گے ،ملک کے معیشت کو سستی شہرت کے لیے دائوپر لگایا گیا ہے، پی ٹی آئی نے معیشت کا بیڑا غرق کیا،تحریک انصاف کی حکومت بہت زیادہ گھمبیرمسائل چھوڑ کرگئی ہے،تحریک انصاف 64سو ارب روپے بجٹ خسارہ چھوڑکر گئی ہے ،میں مانتا ہوں کہ تحریک انصاف کے دورمیں برآمدات میں اضافہ ہوا۔ان خیالات کااظہار مسلم لیگ ن کے رہنما مفتاح اسماعیل نے معاشی ٹیم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آج سے پاکستان کی ترقی کا آغاز ہوگیا ہے،وزیر اعظم میاں شہباز شریف مہنگائی سے تنگ عوام کے لیے مرہم لے کر آئے ہیں ،مزدورکم سے کم تنخواہ 25 ہزار کرنے سے غریب طبقے کو ریلیف ملے گااور سرکاری ملازمین کے پنشن میں 10 فیصد اضافہ ، ایک لاکھ تک تنخواہ لینے والوں کے لیے بھی 10 فیصد بڑھانے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ نجی اداروں اوربزنس کمیونٹی سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ بھی ایک لاکھ روپے تک کی تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ کریں۔مفتاح اسماعیل نے کہاکہ شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کا معاشی مستقبل روشن ہے پی ٹی آئی نے معیشت کا بیڑا غرق کیا ملکی معیشت کو نقصان پہنچایا ۔تحریک انصاف کی حکومت نے پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ قرض لیئے ہیں۔ہمارااندازہ تھا کہ تحریک انصاف کے حکومت میں اس سال 4ہزار ارب روپے کا بجٹ خسارہ ہوگا ہمارا اندازہ غلط ثابت ہوااس وقت 56سوارب روپے کا بجٹ خسارہ ہوگا یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑابجٹ خسارہ ہے 8سو ارب روپے کا سپلیمنٹری بجٹ اس میں شامل نہیں ہے ۔عمران خان نے373ارب روپے کا پیکج دیا ہے جو اصل میں ہماری حکومت کے لیے مائن لگائی گئی ہے ۔ہم دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جائیں گے ۔ملک کے معیشت کو سستی شہرت کے لیے دائوپر لگایا گیا ہے ۔اس ملک کو ٹھیک کرنا ہماری ذمہ داری ہے کل ملاکر 64سوارب روپے کا بجٹ خسارہ ہے ۔ بجٹ میں پیسے کم رکھے گئے تھے جبکہ 95سو ارب روپے کا خرچہ کررہے ہیں ۔تحریک انصاف حکومت میں پرائمری خسارہ 16سو ارب روپے ہے ۔مسلم لیگ ن کے دور میں کل بجٹ خسارہ 16سو ارب روپے سالانہ تھا ۔پاکستان کے خلاف سازش پی ٹی آئی نے کی ہے اچھا ہوا ہم نے ان کو نکال دیا ۔انہوں نے اعتراف کیاکہ تحریک انصاف کے دورمیں برآمدات میں اضافہ ہواہے اس سال کے آخر تک برآمدات 30ارب ہوجائے گی۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کاکرنٹ اکائونٹ خسارہ زیادہ ہے جس سے ذخائر کم ہورہے ہیں ۔زرمبادلہ کے ذخائر کا استحکام دینا ہمارا سب سے بڑا چیلنج ہے ۔تحریک انصاف حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معائدے کی خلاف ورزی کرکے انڈسٹری کو ایمنسٹی دی جس کی کو ئی ضرورت نہیں تھی اس سے نقصان ہواہے ۔انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہاکہ سابق وزیراعظم عمران خان نے جو 2سو ارب باہر سے لانے تھے ان میں سے 50ارب بھیج دیں باقی کا میں بندوبست کرلوں گا ۔تحریک انصاف حکومت نے پی ایس ڈی پی بھی 9سو ارب روپے سے کم کرکے 7سو ارب روپے کی اور خرچ 400ارب روپے کئے ہیں ،تحریک انصاف کی حکومت بہت زیادہ گمبھیر مسائل چھوڑ کرگئی ہے پاکستان میں مہنگائی کی ہے انہوں نے امیر کے لیے آسانی کی ہے اورغریب کے لیے مشکلاتے پیداکئے ۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ عمران خان نے پاکستان کے ساتھ سازش کرکے گئے ہیںملکی امپورٹ 75 ارب ڈالر تک چھوڑ گئے ہیں،زرمبادلہ کے ذخائر میں 500 کروڑ ڈالر کی کمی ہوئی ہے اور اب پاکستان کو مالی سال کے آخر تک بڑی غیر ملکی ادائیگیاں کرنا ہیںساتھ ہی عمران خان آئی ایم ایف سے پروگرام ادھورا چھوڑ کر گئے ہیں،پاکستان کی معیشت کے ساتھ سوتیلے والا سلوک کیا ہے اورعمران خان جاتے ہوئے اپنے دوستوں کو صنعتوں پر ایمنسٹی اسکیم دی۔سینیٹرمصدق ملک نے کہاکہ ملک کی آمدن کم اور خرچ بڑگئے جس کی وجہ سے ملک معاشی بدحالی کا شکار ہواہے ۔یہ حکومت کی پالیسوں کی وجہ سے ہوئی ہے ۔سستی چینی برآمد کرکے مہنگی درآمد کی گئی سستا آٹا برآمد کیاگیا اور مہنگی گندم درآمد کی گئی، اس کی وجہ سے ہم معاشی بدحالی کا شکار ہوئے ہیں۔عوام کی قوت خرید آدھی رہے گئی ہے ۔عمران خان آٹا اور گھی کی قیمت بڑھانے آئے تھے ۔مہنگائی 13فیصد تک چلی گئی۔ عمران خان کی ناقص پالیسی سے مہنگائی بڑھی اور عمران خان نے 4 ڈالر کی گیس نہیں خریدی اور 22 ڈالر میں خریدنی پڑی ،سستا آٹا ایکسپورٹ کرکے مہنگا امپورٹ کیا گیا۔رہنما مسلم لیگ نون محمد زبیر نے کہا کہ عمران خان کے پاس کوئی معاشی پالیسی نہیں تھی، عمران خان نے پہلے ہی سال شرح سود دگنا کرکے 13.5 فیصد تک پہنچایا۔