معروف سوشل میڈیا کمپنی ٹوئٹر کا وجود ختم ہوگیا ہے کیونکہ ایلون مسک نے ٹوئٹر کو اپنی ایک اور کمپنی ’ایکس ہولڈنگز کارپوریشن‘ میں ضم کرلیا ہے۔
فوربز کی رپورٹ کے مطابق ٹوئٹر اب ایلون مسک کی ایکس ہولڈنگز کارپوریشن کا حصہ بن گئی ہے، ایکس کارپوریشن ایک نجی ادارہ ہے اور ایکس ہولڈنگز کارپوریشن اس کی سرپرست کمپنی ہے، جس میں نیورلنک، اسپیس ایکس، ٹیسلا اور دی بورنگ کمپنی شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ٹوئٹر کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم برقرار رہے گا تاہم ایکس کارپوریشن میں اس کی شمولیت سپر ایپ کی تشکیل کی جانب پہلا قدم ہے۔
گزشتہ سال ایلون مسک نے ٹوئٹ کیا تھا کہ وہ ٹوئٹر کو سپر ایپ (ایوری تھنگ ایپ) کے ساتھ منسلک کرنا چاہتے ہیں۔
Buying Twitter is an accelerant to creating X, the everything app
— Elon Musk (@elonmusk) October 4, 2022
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب لورا لومر نامی خاتون نے ٹوئٹر کے خلاف کیلیفورنیا کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا۔
خاتون کا اکاؤنٹ 2019 میں بند کردیا گیا تھا جس کے بعد انہوں نے ٹوئٹر کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔
دستاویزات کے مطابق ٹوئٹر کمپنی کا وجود ختم ہوگیا ہے اب اسے ایکس کورپوریشن کا حصہ بنادیا گیا ہے۔
ایلون مسک اس سے پہلے بھی ٹوئٹر کو چین کی وی چیٹ کی طرح سپر ایپ بنانے کا عندیہ ظاہر کر چکے ہیں۔
اس سپر ایپ کے لیے وہ ماضی میں ایکس دی ایوری تھنگ ایپ کا نام بھی ایک ٹوئٹ میں استعمال کر چکے ہیں۔
عدالتی دستاویز سامنے آنے کے بعد ایلون مسک نے ٹوئٹ کیا جس پر ’ایکس‘ لکھا تھا۔
X
— Elon Musk (@elonmusk) April 11, 2023
خیال رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں ایلون مسک کے نے 44 ارب ڈالر کی قیمت پر ٹوئٹر خریدا تھا جس کے بعد ملازمین کی بڑی تعداد کو فارغ کردیا گیا اور بند اکاؤنٹس بھی بحال کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا جس میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاؤنٹ بھی شامل ہے۔
انہوں نے اپنی کمپنی کے 80 فیصد ملازمین کو برطرف کرلیا ہے اور آمدنی میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
ٹوئٹر کو خریدنے کے بعد ایلون مسک نے مفت بلیو ٹک پروگرام کو ختم کرتے ہوئے اکاؤنٹ کو ویری فائیڈ کرانے سبسکرپشن سروس کا آغاز کیا تھا۔
ایلون مسک نے ٹوئٹ کرتے ہوئے بتایا کہ اب یکم اپریل کے بجائے اب ’20 اپریل تک بلیو ٹک کو ہٹانے کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔‘









