خرطوم: سوڈان میں جرنیلوں کی جنگ جاری ہے، جس میںاب تک تین سو کے قریب لوگ ہلاک ہوچکے ہیں،ہزاروں زخمی جبکہ عوام گھروں میں محصورہیں۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سوڈان میں اقتدار کے لیے دو جرنیلوں کی فوجیں آمنے سامنے ہیں ، د ونوں عوام کی ترجمان ہونے کی دعویدار ہیں، مگرجمہورگھروں تک محدود ہے،جس کے نتیجے میںخرطوم سمیت کئی شہردھماکےاورفائرنگ سےگونج رہے ہیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ دونوں فوجیں بھاری ہتھیاروں طیاروں سے لیس جنگ میں مصروف ہیں، جنگ میں تین سو کے قریب لوگ جاں بحق اورہزاروں زخمی ہیں۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ سڑکوں پر لاشیں پڑی ہیں، اسپتالوں میں جگہ کم پڑ گئی ہے۔شہریوں کو بجلی کی بندش اور پانی کی کمی کا سامنا ہے جبکہ خرطوم سے ہزاروں افراد نقل مکانی کررہے ہیں۔
دوسری جانب جنگ بندی کی ایک اور کوشش ناکام ہوچکی ہے۔دیگر ملکوں نے بھی سوڈان سے اپنے شہریوں کونکالنے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔
ڈی ڈبلیو نے رپورٹ کیا ہے کہ خرطوم میں پاکستانی سفارتخانے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔جہاں تقریبا ایک ہزار پاکستانی موجود ہیں ، جنہیںگھروں تک محدود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ خیال رہے کہ آرایس ایف کو فوج میں ضم کرنے کے منصوبے پر برہان اور داگلوکے درمیان اختلافات کی وجہ سے تصادم کا تازہ سلسلہ شروع ہوا۔
واضح رہے کہ مشترکہ طورپر فوجی بغاوت کرنے والے دونوں رہنمائوں کے درمیان دوہزاراکیس میں اختلافات پیدا ہوئے تھے جبکہ دوہزارانیس میں فوجی بغاوت کے ذریعہ صدرعمرالبشیر کو اقتدارسے معزول کیا گیا تھا۔
سوڈان :جرنیلوں کی جنگ میں تین سو لوگ ہلاک ،ہزاروں افرادزخمی








