اسلام آباد :وزیردفاع خواجہ آصف نے بیان دیا ہے کہ دو آئینی ادارے ایک دوسرے کےآمنے سامنے آچکے ہیں۔
قومی اسمبلی میں ہونے والے اجلاس میں خواجہ آصف نے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ آپ مانیں یا نا مانیں لیکن صورتحال اس قدر خطرناک ہوچکی ہے کہ دو آئینی ادارے آمنے سامنے آچکے ہیں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جمہور پارلیمان کا مرکز تصور کیا جاتا ہے ،ہم عدلیہ کے خلاف نہیںتاہم قراردار کے ذریعے پورے ہائوس کی کمیٹی بنائی جا ئےجو دیکھے کہ ماضی میں آئین کے ساتھ کیا ہوتا رہا ہے۔عدلیہ کا بنیادی کام انصاف کی فراہمی ہے،ہم عدلیہ نہیں پارلیمان کی حدودمیں مداخلت کے خلاف ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ جسٹس منیر سے لیکر آج دیکھیں آئین کے ساتھ کیا ہوتا رہا ہے ہم دوراہے پر کھڑے ہیں تاریخ بن رہی ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے جو بات کی اس میں ہم پر توہین عدالت لگائی گئی ،ہم بھی عدالت کے ساتھ ہیں لیکن دائرہ اختیار کی خلاف ورزی کے خلاف ہیں ۔
وزیردفاع کے مطابق جب بھی آئین کی خلاف ورزی ہوئی ججوں نے انگوٹھے لگائے ہم نے بھی سہولت کاری کی ہم بھی مبرا نہیں ہیں ۔1لاکھ 80ہزار مقدمے اس وقت التواء ہیں جبکہ 51 ہزار مقدمے سپریم کورٹ میں زیر التوا ہیں ،یہ ہماری عدلیہ کا حال ہے یہ مقدمے تو نمٹائیں اس کے بعد ہم سے بھی دست و گریبان ہوں،اللہ نہ کرے یہ وقت آئے۔
لوگوں کو پھانسی ہوجاتی ہے فیصلے اس کے بعد آتے ہیں۔ جو قرارداد میں نے بنائی آپ کو بھیج دیتا ہوں اس قراداد کی روشنی میں کمیٹی بنائیں۔ ہم آئین بنانے والے ہیں اپنی تخلیق کی خلاف ورزی کرینگے نہ کرنے دینگے۔
یاد رہے کہ وزیردفاع خواجہ آصف نے گذشتہ روز قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ججز پرخوب تنقید کی تھی، انہوں نے کہا تھا کہ عدالت پہلے اپنی پنچایت لگائے بعد میں فیصلے کرے۔
خواجہ آصف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کہتے ہیں عوام میں جائیں ہم تو دو روز چھٹی ہو تو اپنے حلقوں میں عوام کے ساتھ گزارتے ہیں۔یہاں شاہراہ دستور ان کے باہر نکلنے پر بند ہوتی ہے۔ان کی برادری کے لوگ ریٹائر ہو کے پارٹی کے ٹکٹ فروخت کر نے میں مصروف ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ماضی میں ڈیم فنڈ کے نام پر عوام کو ڈیم فُول بنایا،کسی نے پوچھا نسیم حسن شاہ کدھر ہے؟ حمید ڈوگر کہاں ہیں؟زندہ اور مردہ لوگوں کو یہاں بلایا جائے ۔اسمبلی کی کمیٹی بنائی جانی چاہیے جوججز سے حساب مانگے۔کچھ بھی ہوجائے پارلیمنٹ اب ہتھیار نہیں ڈالے گی ،اپنے وزیر اعظم کی بلی نہیں چڑھنے دیں گے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہا کہ انہیں خوش کرنے کے لیے اعظم نذیر تارڑ نے جو کیا اس پہ معذرت کر لی ،ہمارا منہ نہ کھلوائیں، اس طرح نہیں ہو گا انہیں اپنا حساب دینا ہو گا۔
وزیردفاع کےمطابق ہم سیاستدان بھی آپس میں بہت دست و گریبان ہوتے رہے ہیں۔انہوں نے قابل گرفت جرم کیے ہوئے ہیںجس کاان کو حساب دینا پڑے گا۔پچھلے دور میں انہوں نے اپنے ایک برادر جج کے خلاف کیس چلایااس کا جرم صرف یہ تھا کہ اس نے قانون کے مطابق فیصلہ دیا،جسٹس شوکت صدیقی کی نہ صرف تنخواہ بند کردی بلکہ لائسنس معطل کر دیا۔
خواجہ آصف اسمبلی میں بولے کہ ایک کمیٹی بنائیں اور عدلیہ کے فیصلوں کا ٹرائل ہونا چاہیےہمیں عوام یاد کرا دیتے ہیں تمہاری کیا اوقات ہے،ان کو بھی یاد کروائیں کہ ان کی کیا اوقات ہےان کو بھی معافی مانگنے دیں اور ان کا بھی احتساب ہونے دیں،ان کو لکھیں کہ ہمیں اس گفتگو کا ریکارڈ دیں۔
جب بھی آئین کی توہین ہوئی توانگوٹھے ججز نے لگائے ،خواجہ آصف کی قومی اسمبلی میں دھواں دار تقریر








