بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پانچواں ون ڈے، نیوزی لینڈ نے پاکستان کو ہرا دیا

کراچی: مڈل آرڈر بیٹر افتخار احمد کی شاندار مزاحمتی اننگز کے باوجود پانچویں میچ میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کو 47 رنز سے شکست دیدی، پانچ میچز کی سیریز 4-1 سے قومی ٹیم کے نام رہی۔ میچ میں شکست کے بعد گرین شرٹس آئی سی سی کی رینکنگ میں تیسرے نمبر پر پہنچ گئی۔

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان جاری آخری میچ میں مہمان ٹیم کے کپتان ٹام لیتھم نے ٹاس جیت کر قومی ٹیم کے خلاف بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔
نیوزی لینڈ کی طرف سے اننگز کا آغاز ول ینگ اور ٹام بلنڈل نے کیا، دونوں نے محتاط انداز میں بیٹنگ کا آغاز کیا ، دونوں کی پارٹنر شپ 32 سکور تک پہنچی تو محمد وسیم جونیئر نے بلنڈل کو فخر زمان کی مدد سے پویلین بھیج دیا، بیٹر نے 22 گیندوں پر 15 سکور بنائے۔
دوسری وکٹ کے لیے ہینری نکولس اور ول ینگ کے درمیان پچاس سے زائد رنز کی شراکت داری بنی اس کا اختتام اُسامہ میر نے کیا جنہوں نے شاندار گیند پر ہینری نکولس کو کریز چھوڑنے پر مجبور کیا۔
تیسری وکٹ کے لیے ول ینگ اور ٹام لیتھم نے زبردست انداز میں سکور آگے بڑھایا اور گرین شرٹس باؤلرز کو بے بس کیا۔ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان 74 گیندوں پر 74 رنز کی پارٹنر شپ بنی جو آل راؤنڈرشاداب خان نے ختم کی، مہمان بیٹر بدقسمت ثابت ہوئے اور سنچری نہ بنا سکے۔ ان کی باری 91 گیندوں پر 87 سکور تک رہی۔
مارک چیمپن نے اس دوران جارحانہ انداز اپنایا اور دو چھکوں اور پانچ چوکے لگا کر خطرناک عزائم ظاہر کیے لیکن شاداب خان نے اُنہیں بھی چلتا کیا، بیٹر 33 گیندوں پر 43 رنز بنا سکے۔ ٹام لیتھم 58 گیندوں پر 59 سکور بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

مہمان ٹیم کے کول میکونچی 25 گیندوں پر 26 سکور بنا کر شاہین شاہ آفریدی کا نشانہ بن گئے۔ دیگر بیٹرز میں ایڈم ملنے 4، ہینری شپلے 3 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ایش سوڈھی 2، رینڈورا 28 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
نیوزی لینڈ کی ٹیم نے 50 ویں اوورز میں 299 رنز بنائے۔ شاہین شاہ آفریدی نے 3 شکار کیے، اُسامہ میر اور شاداب خان نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔ حارث رؤف اور محمد وسیم نے ایک ایک شکار کیا۔
ہدف کے تعاقب میں قومی ٹیم کی طرف سے اننگ کا آغاز شان مسعود اور فخر زمان نے کیا، گرین شرٹس کا آغاز اچھا نہ تھا، شان مسعود ایک مرتبہ پھر ناکام رہے، 29 کے مجموعی سکور پر بیٹر 20 گیندوں پر 7 رنز بنا کر چلتے بنے۔
اس سے اگلے اوور میں 100 واں میچ کھیلنے والے بابر اعظم 30 کے مجموعی سکور پر صرف ایک رن بنا کر شپلے کی گیند پر میک کونچی کو کیچ دے بیٹھے۔ محمد رضوان کی باری بھی 9 سکور تک محدود رہی۔فخر زمان بھی اپنی باری 33 سکور لے جا پائے اور رینڈورا کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔
اس دوران آغا سلمان اور افتخار احمد نے مزاحمتی اننگز کھیلی، اور وکٹ کے چاروں اطراف خوبصورت شارٹس کھیلے، آغا سلمان نے سیریز کے دوران مسلسل دوسری ففٹی بنائی اور افتخار احمد کے ساتھ مل کر 95 گیندوں پر 97 رنز کی زبردست پارٹنر شپ بنائی۔
اس پارٹنر شپ کا اختتام 163 کے مجموعی سکور پر ہوا، جب 57 گیندوں پر 57 رنز بنا کر آغا سلمان چلتے بنے، شاداب خان بھی 14 گیندوں پر 14 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، اُسامہ میر کی باری 20 پر ختم ہوئی، شاہین شاہ آفریدی صفر پر آؤٹ ہوئے۔
اس دوران افتخار احمد نے کچھ مزاحمت دکھائی اور جارحانہ انداز اپنایا تاہم دیگر ساتھ والے کوئی بیٹر بھی ساتھ نہ دے سکے، محمد کی باری 6 سکور پر ختم ہوئی۔
قومی ٹیم ہدف کے تعاقب میں 252 رنز پر ہمت ہار بیٹھی، افتخار احمد نے 94 رنز کی ناٹ آؤٹ مزاحمتی اننگز کھیلی، شپلے اور رینڈورا نے تین تین وکٹیں حاصل کیں ۔
میچ میں شکست کے بعد قومی ٹیم آئی سی سی کی رینکنگ میں تیسرے نمبر پر چلے گئی ہے، آسٹریلیا کی ٹیم دوبارہ نمبر ون بن گئی ہے جبکہ دوسرے نمبر پر بھارت کا قبضہ ہے۔