اسلام آباد(ممتازنیوز )پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہاکہ آج صبح میں نے عمران خان سے ملاقات کرنے کی کوشش کی،پولیس لائن گیسٹ ہاوس پہنچا تو نہ مجھے،نہ وکلا اور نہ ہی میڈیا کو رسائی دی گئی،ہم نے جی الیون کے ایس پی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تا کہ ہمارا رابطہ عمران خان سے ہوسکے لیکن انھوں نے بھی ملاقات سے انکار کردیا۔
بدھ کواپنے ویڈیوپیغام میں شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہم نے ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کردی ہے جسکی پیروی فیصل چوہدری کر رہے ہیں،پٹیشن میں پی ٹی آئی قیادت اور وکلا کو عمران خان تک رسائی دینے کی درخواست کی گئی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ قانون کی نظر میں درست نہیں، ہم نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے،جسکی پیٹشن آج ہی سپریم کورٹ میں دائر کردی جائےگی،اس سے متعلق ہماری قانونی ٹیم کو ہدایات بھی جاری کردی گئی ہیں۔
انہوںنے کہاکہ مجھے اور اسد عمر کو گرفتار کرنے کے لئےاسلام آباد ہائیکورٹ میں پولیس کی بھاری نفری بھیجی گئی،پولیس اسد عمر کو گرفتار کرنے میں کامیاب رہی جبکہ میں اور وزیر اعلی گلگت بلتستان محفوظ مقام پر منتقل ہوگئے،میں تحریک انصاف کے تمام کارکنان اور عمران خان سے محبت کرنے والے تمام شہریوں سے کہتا ہوں کہ پر امن احتجاج آپکا قانونی حق ہے اسے جاری رکھیں۔
شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہم نے فوری چند مقامات پر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے ،کراچی انصاف ہاوس میں دوپہر دو بجے کے بعد تمام کارکنان انصاف ہاوس پہنچے اور اپنا پر امن احتجاج ریکارڈ کرائیں،لاہور میں لبرٹی چوک شام پانچ بجے،پشاور میں قلعہ بالاحصار،ملتان میں چوک نواشہر،اسلام آباد میں ایچ الیون جہاں عمران خان کو نظربند کر رکھا ہے احتجاج کا فیصلہ کیا گیا ہے،اسی طرح راولپنڈی میں صدر میں احتجاج کے مقام کا تعین کیا گیا ہے، کارکنوں، حامیوں اور تمام پاکستانیوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ دی گئی احتجاجی جگہوں پر پہنچ جائیں۔
سابق وزیرخارجہ نے کہاکہ تمام پی ٹی آئی ڈسٹرکٹ اور سٹی صدور ہر اضلاع میں اپنی اپنی تنظیموں کو ہدایات دیں کہ وہ اپنے اپنے اضلاع آپکے مشاورت سے پرامن احتجاج کے لئے پوائینٹس کا انتخاب کریں اور احتجاج ریکارڈ کریں ،ہم اس وقت تک پرامن اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے یہ جنگ جاری رکھیے گے جب تک ہم عمران خان کی رہائی، قانون کی حکمرانی کے حصول میں کامیاب نہیں ہو جاتے۔









