اسلام آباد(طارق محمود سمیر) تحریک انصاف کے چیئرمین سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری پر تحریک انصاف کے حامیوں نے جس شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور جی ایچ کیو کے گیٹ پر دھاوا اور لاہور میں کورکمانڈر کے تاریخی جناح ہائوس پر توڑ پھوڑ اورجلائو گھیرائو کرکے پوری دنیا میں پاکستان کی نہ صرف بدنامی کی گئی ہے بلکہ جو کام 75سال میں دشمن ممالک نہیں کر سکے وہ ایک سیاسی جماعت کے کارکنوں نے کر دکھایا ۔2009-2010میں پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں کالعدم تحریک طالبان کے دہشتگردوں نے جی ایچ کیو پر حملہ کیا تھا اور اب 2023میں ایک سیاسی جماعت کے کارکنوں نے جو عمل کیا ہے وہ کسی طور پر بھی ملکی اور قومی سلامتی کے مفاد میں نہیں ہے ۔ان دونوں مقامات پر مظاہرین کی آمد کے موقع پر فوج کے جوانوں اور افسران نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور مظاہرین کو روکنے کے لئے طاقت کا استعمال نہیں کیا ۔پاکستان کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو جب جنرل ضیاء الحق کے دور میں پھانسی دی گئی تو پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے شدید احتجاج کیا ، خود کو آگ لگاتے رہے ، پھانسیاں چڑھتے رہے ، کوڑے کھاتے رہے لیکن کسی جگہ پر بھی انہوں نے نہ تو جی ایچ کیو کا رخ کیا اور نہ ہی کسی کور کمانڈر ہائوس پر حملہ کیا گیا ۔ 2007میں جب محترمہ بے نظیر بھٹو شہید ہوئیں تواس وقت بھی پاکستان میں ایک فوجی حکمران جنرل (ر)پرویز مشرف برسراقتدار تھے ، بے نظیر بھٹو کی شہادت پر شدید ہنگامے ہوئے ، ریلوے ٹراینزاور پٹڑیاں جلائی گئیں اور سرکاری املاک کا نقصان کیا گیا لیکن اس وقت سابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا اور اپنے کارکنوں کے جذبات کو کنٹرول کیا اس مرحلے پر بھی کسی نے فوجی تنصیبات پر حملہ نہیں کیا اور نہ ہی قیادت کی طرف سے کارکنوں کو اس طرح کا اشتعال دلایا گیا ۔ نوازشریف پانامہ کیس میں نااہل ہوئے (ن) لیگ کے کارکنوں نے احتجاج کیا ، نوازشریف احتجاجی ریلیوں سے اپنے خطاب میں مجھے کیوں نکالا کا نعرہ لگاتے رہے اور پانچ کے ٹولے کی باتیں کر تے رہے اور سابق فوجی قیادت کو نام لیکر تنقید کا نشانہ ضرور بناتے رہے لیکن (ن) لیگ کے کارکنوں نے فوجی تنصیبات اور مقامات پر حملہ نہیں کیا ۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو نیب قانون کے تحت مبینہ کرپشن کیس میں گرفتار کیا گیا ، اسی طرح کے کیسز میں (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی کے رہنما گرفتار ہوتے رہے لیکن وہ اپنا احتجاج میڈیا کے ذریعے ریکارڈ کراتے تھے ، اس وقت ملک کی جو صورتحال ہے بالخصوص پشاور میں تاریخی قلعہ بالا حصار اور ریڈیو پاکستان کی عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا، کورکمانڈر ہائوس لاہور میں حملے کے حوالے سے کچھ آڈیوز بھی منظر عام پر آئی ہیں جن میں تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر اعجاز چوہدری ، عمران خان کے وکیل سابق گورنر پنجاب خواجہ طارق رحیم اور تحریک انصاف کے دیگر کارکن اور عہدیدار آپس میں جو باتیں کر رہے ہیں اس میں کورکمانڈر ہائوس اور دیگر تنصیبات پر حملے کے لئے ترغیب دی جارہی ہے ، یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے ۔ تحریک انصاف کو قانون کا راستہ اختیار کرنا چاہئے ، عدلیہ سے انہیں ہمیشہ ریلیف ملا ہے اور اگر اس سے پہلے عمران خان گرفتار نہیں ہوئے تھے تو اس کی بنیادی وجہ عدلیہ کی طرف سے عمران خان کو ملنے والا ریلیف تھا۔ علاوہ ازیں تحریک انصاف کے چیئرمین کو آج احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں نیب نے نئے قانون کے تحت 14 روزہ ریمانڈ کی درخواست کی ، دلائل سننے کے بعد احتساب عدالت کے جج نے آٹھ دن کا ریمانڈ دیا جبکہ عمران خان کے دور حکومت میں جو بھی گرفتار ہوتا تھا اس کا ریمانڈ نوے دن کا ہوتا تھا ۔ علاوہ ازیں توشہ خانہ کیس میں بھی عمران خان پر فرد جرم عائد ہو گئی ہے ، یہ فرد جرم اٹھارہ مارچ کو عائد کرنے کے لئے عمران خان کو عدالت طلب کیا گیا تھا لیکن جوڈیشل کمپلیکس جی الیون میں تحریک انصاف کے ہزاروںکارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں جو صورتحال پیدا ہوئی تھی اور عمران خان عدالت کے اندر نہیں پہنچ سکے تھے اور ان کی حاضری گاڑی سے لگائی گئی تھی ، بعد ازاں جج ظفر اقبال کا تبادلہ کر دیا گیا اور ان کی جگہ نئے جج کی تعیناتی کی گئی ، تحریک انصاف کے وکلا نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا ۔عمران خان اور ان کے وکلا کی گزشتہ چند ماہ سے یہ حکمت عملی تھی کہ توشہ خانہ کیس میں جتنا ہو سکے تاخیری حربے اختیار کئے جائیں اور عمران خان پر فرد جرم عائد نہ ہوسکے۔ قانون کے تحت فرد جرم عائد ہونے کے بعد اب یہ کیس آگے چل پڑے گا اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں عمران خان کو تین سال کی قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے اور قید کی سزا ہوتے ہی عمران خان پانچ سال کے لئے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کے لئے بھی نااہل قرار دیئے جاسکتے ہیں ۔
پی ٹی آئی قانونی راستہ لے، عدلیہ سے ہمیشہ ریلیف ملا، توشہ خانہ کیس میں سزاہوئی تو عمران خان الیکشن کےلئے نااہل ہوسکتے ہیں








