بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

حمزہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوگئے

 لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک )پنجاب اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی کے دوران ووٹنگ کے بعد حمزہ شہباز 197 ووٹ حاصل کرکے پنجاب کے 21 ویں وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے ۔وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے صوبائی اسمبلی میں آج ہونے والا اجلاس ساڑھے 5 گھنٹے تاخیر کے بعد دوبارہ شروع ہوا۔ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری دوبارہ ایوان میں پہنچے جنہوں نے اراکین سے مخاطب ہونے کے لیے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کیا جبکہ پنجاب اسمبلی کے دروازے بند کردیے گئے۔ایوان میں اراکین اسمبلی کی جانب سے شور شرابے اور نعرے بازی کا سلسلہ جاری رہا جس کے سبب اسپیکر کو ایوان سے مخاطب ہونے میں مشکلات درپیش رہی۔وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لئے ہنگامہ آرائی کے بعد پنجاب اسمبلی کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا،ووٹنگ کے عمل کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حمزہ شہباز 197 ووٹ لیکر صوبے کے نئے وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے ہیں۔خیال رہے کہ ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری پر تشدد اور ارکان اسمبلی کو گرفتار کرنے کے بعد پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں تعطل آگیا تھا جس کے بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری اجلاس کی صدارت کررہے ہیں، اجلاس کے شروع ہوتے ہی ایوان میں نعرے بازی کی گئی، سیٹی بجائی گئیں اور شور شرابہ کیا گیا جبکہ پی ٹی آئی اور ق لیگ کے ارکان اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے، ایوان میں حکومتی اراکین کی جانب سے غدار ہے غدار ہے کے نعرے لگائے گئے۔ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری نے اجلاس شروع کراتے ہوئے کہا کہ ایوان کے دروازے بند کردیئے جائیں۔پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ووٹنگ کا سلسلہ جاری ہے، ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری تمام کارروائی اپنے ڈائس پر آنے کے بجائے ووٹرز گیلری میں بیٹھ کر کر رہے ہیں، حکومتی اتحادی پارٹیوں کی طرف سے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کے بعد ووٹنگ میں صرف اپوزیشن کی اتحادی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں۔پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی، چودھری پرویز الٰہی زخمی قبل ازیں ذرائع کے مطابق پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران ہنگامہ آرائی اور جھگڑے کے دوران وزارت اعلیٰ کے امیدوار چودھری پرویز الٰہی زخمی ہوگئے، ریسکیو اہلکاروں نے پرویز الہٰی کو طبی امداد دی۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ میری طبیعت بہت خراب ہے، مجھے مارنے کی کوشش کی گئی، یہ مجھے اپنی طرف سے ختم کرکے گئے ہیں، شہباز شریف کے فون پر یہ کارروائی ہوئی، میں ابھی بھی اسپیکر ہوں، یہ اسپیکر کے ساتھ ہو رہا ہے، میرا بازو توڑ دیا ہے، یہ ہے شریفوں کی جمہوریت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے ٹارگٹ کر کے نشانہ بنایا گیا، وزیراعظم شہبازشریف کے حکم پر پولیس نے آپریشن کیا،اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑتا ہوں، مجھے سانس کا مسئلہ، بازوٹوٹ گیا، میں تو اسپیکر ہوں، جب یہ گرفتار تھے ان کو ہرطرح کا ریلیف دیا، آج لوگوں نے شریفوں کی جمہوریت کو دیکھ لیا، انہوں نے مجھ پرظلم کیا، قیامت تک انہیں معاف نہیں کروں گا۔اسپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ انہیں پہلے کہا تھا اپنے کارکنوں کو نہ بلائیں ماحول خراب ہوگا، جلا وطنی کے دوران میں نے حمزہ شبہاز کا خیال رکھا، آج انہوں نے ظلم کی انتہا کردی ہے، حمزہ شہباز کے جو پروڈکشن آرڈر دیتا تھا اس کا مجھے صلہ دے دیا، ایوان میں گوالمنڈی کے غنڈے لائے گئے۔پرویز الٰہی نے کہا کہ انہوں نے ایوان میں ظلم کی انتہا کی، مجھے دل کا بھی مسئلہ ہے، اپنے ڈاکٹر کو بلایا ہے، یہ ساری پلاننگ کے تحت فلم چلی، رات کو عدالتیں ان کے لیے کھلتی ہے؟ میں کہاں جاؤں میرے لیے کوئی عدالت نہیں؟ یہ عدالتیں صرف بڑوں کو سنتی ہیں، جب سے پاکستان بنا ایوان میں کبھی ایسا واقعہ نہیں ہوا، میری کوئی عدالت نہیں سن رہی، اصل عدالت اللہ کی ہے وہی بہتر فیصلہ کرے گی، ان لوگوں نے ظلم کی انتہا کردی آج تک کسی اسپیکرکے ساتھ ایسا حال نہیں ہوا، یہ اپنی طرف سے مجھے ختم کرکے گئے ہیں، رانا مشہود میرے اوپر گرا تھا، حمزہ پیچھے سے کہہ رہا تھا پکڑو، مارو۔پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما کا کہنا تھا کہ انہوں نے مجھے سے جان سے مارنے کی کوشش کی، عدالت کا سوموٹو ان کے لیے ہوتا ہے، جو بھی اجلاس شروع کرے گا اس کو تسلیم نہیں کریں گے، یہ اجلاس غیر قانونی ہوگا، ڈپٹی اسپیکر جھوٹ بول رہا ہے، تشدد نہیں ہوا۔