اسلام آباد:پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ اور امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر نے پیر کو اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کا مقام تبدیل کرنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی۔
جمعہ کو مولانا فضل الرحمان کی جانب سے پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعد اعلان کیا گیا تھا کہ ملک بھر سے قافلے اسلام آباد پہنچیں کیونکہ پیر کو اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر احتجاج اور دھرنا دیا جائے گا۔
مولانا فضل الرحمان کے اس فیصلے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے بھی احتجاج میں شرکت کا اعلان کیا ہوا ہے۔
تاہم سپریم کورٹ کے باہر ہونے والے احتجاج کے پیش نظر حکومتی وزراء نے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے احتجاج کا مقام تبدیل کرنے کی درخواست کی۔
حکومتی وفد نے مولانا سے سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کے بجائے ڈی چوک پر دھرنا دینے کی درخواست کی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ کچھ روز قبل بھی ملک میں حالات خراب ہوئے، وفاقی حکومت چاہتی ہے ڈی چوک پر احتجاج کریں۔
اُدھر مولانا فضل الرحمان نے اسحاق ڈار اور رانا ثناء اللہ کی درخواست مسترد کردی
مولانا فضل الرحمان نے وفد کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم اعلان کرچکے، اس لئے اب جگہ تبدیل نہیں ہوسکتی، احتجاج سپریم کورٹ کے ججز کیخلاف ہے تو سپریم کورٹ کے باہر ہی ہوگا۔ ہم ماضی میں بھی اسلام آباد میں دو دفعہ دھرنا دیا، لیکن دونوں دھرنوں میں کوئی پتہ بھی نہیں ٹوٹا، نہ کوئی گملہ ٹوٹا۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے امیر جے یو آئی ف کا کہنا تھا کہ ہماری تاریخ گواہ ہے ہمارا احتجا جپر امن ہوتا ہے۔ آزادی مارچ میں ہمارے لاکھوں کارکنان تیرہ روز تک اسلام آباد میں بیٹھے رہے۔ تیرہ دن میں سرکاری یا عوامی املاک کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔ میں اتنا یقین دلاتا ہوں کہ ہمارا کوئی کارکن قانون ہاتھ میں نہیں اٹھائے گا۔
دھرنے کی اجازت کیلیے پی ڈی ایم کی انتظامیہ کو درخواست
اس سے قبل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی جماعتوں نے ڈی چوک اسلام آباد میں دھرنے کی درخواست جمع کرا دیں۔
ڈپٹی کمشنر کو جمع کرائی گئی درخواست میں کہا ہے کہ اسلام آباد ڈی چوک میں اجتماع صبح دس بجے ہوگا لہٰذا دھرنے کی اجازت دی جائے۔ دھرنے کے حوالے سے سیکیورٹی اور ٹریفک انتظامات بھی کیے جائیں۔
خیال رہے کہ اسلام آباد میں دفعہ 144 بھی نافذ ہے جبکہ اہم تنصیبات اور عمارتوں کی سیکیورٹی کے لیے فوج پہلے سے ہی تعینات ہے۔ اسی حوالے سے ضلعی انتظامیہ کے مطابق دفعہ 144 کے نفاذ کے باعث احتجاج کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
سپریم کورٹ کے باہر دھرنا، فضل الرحمان نے جگہ تبدیل کرنے کی حکومتی درخواست مسترد کردی








