بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مجھے پہلے پتہ چلا تھا کہ میچ فکس ہوگیا ہے، عمران خان

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے کراچی کے باغ جناح میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج میں آپ کے سامنے خاص بات چیت کرنے آیا ہوں کیونکہ مسئلہ آپ کے مستقبل کا ہے، مجھے بڑی خوشی ہے کہ ساری جگہ پاکستان کے جھنڈے دیکھ رہا ہوں کیونکہ مسئلہ تحریک انصاف کا نہیں پاکستان کا ہے۔انہوں نے کہا کہ دوستی سب سے چاہتاہوں غلامی کسی کی بھی قبول نہیں کروں گا، ہمارے ملک کے خلاف جو سازش ہوئی، آپ آرام سے سنیں کہ یہ سازش یا مداخلت تھی اور عوام سے پوچھا کہ یہ سازش یا مداخلت تھی اور کہا کہ ایک بڑے بیرونی ملک سے سازش ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں کسی ملک کے خلاف نہیں ہوں، نہ میں بھارت مخالف، نہ یورپین مخالف اور نہ ہی امریکا مخالف ہوں بلکہ پوری دنیا میں انسانیت کے ساتھ ہوں اور کسی قوم کے خلاف نہیں ہوں۔عمران خان نے کہا کہ امریکا میں ہماری سب سے مضبوط اور طاقت ور کمیونٹی ہے، وہ بھی پاکستان کو بھیجتے ہیں، جس پر ہمارا ملک چلتا ہے، میں دوستی سب سے چاہتا ہوں لیکن غلامی کسی سے نہیں چاہتا۔ان کا کہنا تھا کہ لوگوں نے کہا کہ بیرونی اور اندرونی سازش ہے، آپ کی جان کے خلاف مافیا بیٹھے ہوئے ہیں اور جان جاسکتی ہے لیکن میری جان ضروری نہیں بلکہ آپ کا مسقبل ضروری ہے، ایک میر جعفر کو ہمارے اوپر مسلط کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میر جعفر ایک غدار تھا، جس نے انگریزوں کے ساتھ مل کر بنگال کے مغل سلطنت کا سراج الدولہ سے غداری کی اور بنگال مسلمانوں کے ہاتھ سے چلا گیا، مغل حکومت کا سب سے امیر صوبہ بنگال تھا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ سازش کے تحت یہاں ہمارے اوپر بھی میر جعفر مسلط کیا گیا۔سازش پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج سے تین 4 ماہ پہلے امریکی سفارت خانے میں اپوزیشن سے ملاقاتیں شروع ہوئی اور پھر کئی صحافی جو خاص طور پر سازش میں ملوث تھے ان کی بھی امریکی سفارت خانے میں ملاقاتیں شروع ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ ایک صحافی نے بتایا کہ ہمارے اوپر بڑا پیسہ خرچ ہوتا ہے، پھر امریکا میں ہمارے سفیر کے ساتھ ڈونلڈ لو کی ملاقات ہوتی ہے اور اس کو پتہ تھا کہ تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں آنے والی ہے، وہ کہتا ہے اگر تم نے عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوئی تو پاکستان کو مشکل ہوگی، دھمکی دیتا ہے اور کہتا ہے عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو پاکستان کو معاف کردیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس سے شرم ناک دھمکی 22 کروڑ کے قوم کو دی جارہی ہے اور کس کو دے رہے ہیں، ملک کے منتخب وزیراعظم کو دھمکی دے رہے ہیں، وزیراعظم تو میں تھا تو دھمکی کس کو دے رہا ہے کہ وزیراعظم کو ہٹاؤ اور اس کے بعد سازش شروع اور ہمارے 20 اراکین کا ضمیر جاگتا ہے، 20 کروڑ جیبوں میں ڈالتے ہیں اور اس کے بعد ہمارے اتحادی بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں تو یہ کیا سازش تھی یا نہیں، کون سے ملک کو اس طرح دھمکی دی جاتی ہے۔عمران خان نے کہا کہ پھر ہمارے اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اسمبلی میں جا کر کہتے ہیں میرا حلف پاکستان کی سلامتی اور خودداری کی حفاظت کا کہتا ہے اس لیے اجازت نہیں دیتا ہے اور اس نے اجلاس ملتوی کرتا ہے، پھر سپریم کورٹ فیصلہ دیتا ہے، ہمیں بڑی تکلیف ہوتی ہے لیکن ہم فیصلہ مان جاتے ہیں، بتا دیا جاتا ہے کہ اسمبلی میں کب ووٹنگ ہونی ہے۔انہوں نے کہا کہ رات کے 12 عدالتیں کھل جاتی ہیں، میںپوچھنا چاہتا ہوں کہ میں کیا جرم کر رہا تھا کہ عدالتیں کھول دیں، میں نے اپنی جماعت کانام انصاف رکھا اور آزاد عدلیہ کی جنگ لڑ رہا تھا اس لیے جیل میں گیا، میں نے کبھی قانون نہیں توڑا، مجھے سپریم کورٹ نے صادق اور امین کہا، جو پاکستان کا واحد سیاست دان ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے تحریک عدم اعتماد پر پہلے پتہ چلا تھا کہ کہ میچ فکس ہوگیا ہے، میرے خوف میں کہ جرم کروں گا، آئین توڑوں گا، رات کو 12 بجے جو عدالتیں کھول دی یہ بات ساری زندگی میں میرے دل میں رہ جائے گی۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ عدلیہ سے سوال کرتا ہوں کہ جب ڈپٹی اسپیکر نے کہا تھا مراسلہ کا کہا تھا کیا سپریم کورٹ کو اس کی تحقیقات نہیں کرنا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ میر جعفر اچکن سلوا کر بیٹھا تھا، وہ جوتے پالش کرنے کا بڑا ماہر ہے، آتے ساتھ ہی چیری بلوسم، میر جعفر کو حکم ملا ڈو مور کرو، دہشت گردی کے خلاف اور کام کرو۔عمران خان نے کہاکہ محترم ججز! جب منڈی لگی تھی اور جنہوں نے اسمبلی میں نمائندگی کرنی تھی جب وہ بک رہے تھے تو کیا آپ کو از خود نوٹس نہیں لینی چاہیے تھی، کیا ہمارا آئین اس کی اجازت دیتا ہے کہ آپ سے ووٹ لے کر آئیں اور وہاں جا کر 20 کروڑ روپے پر اپنا ضمیربیچیں اور باہر کی سازش کا حصہ بن کر حکومت گرادیں۔